30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الولایۃ العامۃ[1]کمافی الاشباہ وغیرھا، اقول:یعنی الظلیۃ اما الاصلیۃ فما کان لظل ان یقاوم الاصل بل یضمحل دونہ ولذالو زوج النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قاصرۃ رجل من قاصر رجل تم النکاح و لزم ولم یکن لابویھما خیرۃ اصلا بل کذٰلك لو زوج صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رجلا عاقلا بالغامن امرأۃ کذابدون رضاھما لزم النکاح ولم یکن لھما الخیرۃ من انفسھما کما نصواعلیہ وقد نطق بہ القرآن العزیز۔ |
جیسا کہ الاشباہ وغیرہ میں ہے، اقول:(میں کہتا ہوں) ولایت ظلیہ ایسے ہے لیکن ولایت اصلیہ،تو ظلیہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی بلکہ وہ اصلیہ کے مقابلہ میں کمزور ہوتی ہے اور اسی لئے اگر نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کسی قاصرہ(نابالغہ و مجنونہ و لونڈی)کا نکاح کسی قاصر مرد سے کردیں تو ان کے والدین کو قطعًا کوئی اختیار نہ رہے گا،اور حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا یہ نکاح لازم و نافذ ہوگا بلکہ آ پ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کسی عاقل بالغ مرد کا کسی عورت سے نکاح کردیں تو ایسے ہی لازم و نافذ ہوگا اور اس پر مرد و عورت کواپنے بارے میں کوئی اختیار نہ ہوگا جیساکہ فقہاء کرام نے تصریح فرمائی ہے اور قرآن پاك نے اسکوبیان کیاہے(ت) |
اور اگر زید نے اپنی قاصرہ کا نکاح عمرو سے کردیا اور سلطان کی ناراضی ہے اس نے حکمًا اس نکاح کو ناجائز رکھا اور رخصت سے روك دیا،عنداﷲ اس تصرف کے تمام معانی شرعیہ ترتیب پائیں گے عورت کہ اس کے لیے حلال نہ تھی حلال ہوگئی حکم غیر موجود شرعی ہوگیا،دوسرا اگر بے افتراق بموت وطلاق اس سے نکاح کرے گا مستحق غضب جبار و سزائے نار ہوگا،عورت مرجائے گی تو عمرو بحکم زوجیت اس کے ترکہ کا شرعًا بقدر حصہ مالك ہوگا،یہ تمام باتیں احکام تشریعیہ الٰہیہ سے ثابت ہوجائیں گی مگر احکام تکوینیہ کہ ولایت عرفیہ سے آتے اصلا حاصل نہ ہوں گے نہ وہ عورت اس کے قبضہ میں آئے گی نہ یہ دعوی ارث کرسکے گا کہ سلطان کے سامنے باپ کو کیا اختیار،اور یہ نکاح کہ رائے سلطانی میں خلاف قانون تھا قانونًا باطل ہوچکا۔
|
لان الولایۃ العامۃ املك من الولایۃ الخاصۃ فی الدنیا۔ |
کیونکہ ولایت عامہ دنیا میں ولایت خاصہ سے زیادہ قوی ہے۔(ت) |
اسی قیاس پر صدہا صورتیں ہیں،اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ ولایت عرفیہ میں تنفیذ سے مراد تحصیل ثمرات حسیہ دنیویہ ہے اگرچہ احکام شرعیہ حاصل نہ ہوں اور ولایت شرعیہ میں مراد اثبات معانی شرعیہ ودینیہ ہے اگرچہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع