30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ مانے یا نہ مانے۔ت)دو قسم ہے عرفیہ ودنیویہ کہ بادشاہ کو رعایا حکام کو محکومین پر ہوتی ہے اسی کے سبب سلاطین کو والیان ملك کہا جاتا ہے،اور شرعیہ دینیہ کو حقیقۃً اﷲ عزوجل پھر اس کی عطا سے اس کے رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ہے وبس،جس کی حقیقت ذاتیہ کا بیان اس آیہ کریمہ میں ہے: " مَا لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّلِیٍّ ۫ "[1] (اﷲ تعالٰی کے سوا ان کا کوئی ولی نہیں۔ت) اورحقیقت عطائیہ کا بیان اس آیہ کریمہ میں " اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْ "[2] (نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مومنوں کی جانوں سے بھی ان کے قریب ہیں۔ت)اور دونوں کا جمع اس آیہ کریمہ میں:
|
" وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمْرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ ؕ وَمَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا ﴿۳۶﴾ؕ "[3] |
مومن مرد یا عورت کسی کو اپنا اختیار نہیں ہے جب اﷲ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کسی معاملہ کا فیصلہ فرمادیں اور جو اﷲ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی گمراہی کا مرتکب ہوگا۔(ت) |
پھر رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تشریح و تفویض وانابت سے اسے ہے جسے انہوں نے جتنی بات میں اپنی ولایت اصلیہ سے اختیار ظلی عطا فرمایا،ماذون مطلق کو مطلق اور ماذون امر خاص کو اس امر خاص میں جس کا بیان کریمہ " الَّذِیۡ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِؕ "[4](وہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ت) اور کریمہ " وَ اسْمَعُوۡا وَ اَطِیۡعُوۡا "[5] (سنو اور اطاعت کرو۔ت)میں ہے اور ان انواع ثلثہ یعنی ذاتیہ و عطائیہ و ظلیہ کا اجتماع اس کریمہ میں
" اَطِیۡعُوا اللہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمْرِ مِنۡکُمْ ۚ "[6]۔(اﷲ تعالٰی کی اطاعت کرو اور اس کے رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور اولی الامر کی۔ت) اقول:یہی سرہے کہ نوع دوم پر اطیعوا مکر ر آیا کہ ذاتیہ و عطائیہ دو حقیقتیں ہیں اور نوع سوم کو اسی اطیعوا دوم کے نیچے مندرج فرمایا کہ ظل،اصل سے جد اکوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
مقدمہ دوم:دونوں ولایتوں میں بحسب مناشی و نتائج ولوازم و مقاصد جو فرق ہیں ان کی بہت تعبیرات ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع