30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ علم اور اتقا کی شرط مان لیجائے تو فیصلوں کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا،روایت نمبر۸ سے بالخصوص یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ رشوت لے کر فیصلہ کیا ہو باوجود بالاجماع باطل ہونے کے متاخرین نے اسلئے جائز اور نافذ مان لیا ہے کہ ایسانہ کرنے میں فیصلوں کادروازہ ہی بند ہوا جاتا ہے کیونکہ قاضی غیر مرتشی کا وجود ہی عنقاء ہے،روایت نمبر۱۰،۱۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ قضاء کا عہدہ اور اس کے اختیارات دینے کے لئے دینے والے بادشاہ کا مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے۔،روایت نمبر ۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم میں قاضی ہونے کی کافی لیاقت ہے اگر چہ مسلمانوں پر اس کے احکام نافذ نہیں ہوتے،جب روایات مندرجہ بالا سے معلوم ہوگیا کہ قاضی کے لئے علم اور پر ہیز گاری کی شرط کو فقہاء متاخرین نے اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ اس کے ماننے سے فیصلوں کا دروازہ بند ہوجائے گا تو ظاہر ہے کہ ملك ہندوستان میں اسلام کی شرط ماننے سے بھی فیصلوں کا دروازہ بند ہوجائیگا اور مسلمانوں کے لئے یا کم از کم اسی جگہ کے مسلمانوں کے لئے جہاں کا قاضی(جج)مسلمان نہ ہو حق رسی کی کوئی صورت نہیں رہے گی کیونکہ گورنمنٹ کو تمام اہل مذاہب سے یکساں تعلق ہے اور اس لیے مسلمان قاضی مقرر کرنے کی پابندی نہیں ہوسکتی تو جس جگہ کا قاضی مسلمان نہ ہوگا وہاں یہ مشکل ضرور پید اہوگی اور اس میں کچھ شك نہیں کہ حقدار کی حق رسی کی طاقت اور اس کا عمل میں لانا جو منصب قضاکا اصل مقصود ہے جس طرح ایك مسلمان سے باوجود عالم پرہیز گار نہ ہونے کے ممکن ہے اسی طرح ایك غیر مسلم قاضی سے بھی ممکن ہے،لہذا اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ہر جگہ مسلمان قاضی کا ملنا متعذر اور سخت مشکل ہے نیز اس بات کو کہ قضا کی اصل غرض ایصال حق کے حاصل ہونے مسلم اور غیر مسلم دونوں یکساں ہیں،شرعًا یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ملك ہندوستان میں دیوانی عدالت کا جج بموجب شرع محمدی کے قاضی ہوسکتا ہے عام اس سے کہ وہ مسلم یا غیر مسلم اور مسلم ہونے کی شرط کا اسی ملك تك محدو د ہونا ضروری ہے جہاں اسلامی گورنمنٹ ہو۔ ھذا ما استقر علیہ رائی(یہ وہ ہے جس پر میری رائے ٹھہری۔ت)واﷲ بالصواب۔
کتبہ العبد المذنب المفتی محمد عبداﷲ عفا اﷲ عنہ
المجیب مصیب صح الجواب الجواب صحیح
احمد علی عفی عنہ محمد حسن عفی عنہ محمد اکرام الحق
الجواب صحیح الجواب نعم الجواب الجواب صحیح
محمد عمر خاں عفی عنہ محمد یار عفی عنہ امام مسجد طلائی لاہور بقلمہ غلام رسول مدرس مدرسہ حمیدیہ
قد اصاب من اجاب محمد عالم مدرس مدرسہ حمیدیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع