30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے ہیں:
|
ولناان المقصود ایصال الحق الی المستحق وھو یحصل بالعمل بفتوی غیرہ۔تبیین[1] الحقائق ج۴ ص۱۷۶۔ |
ہماری دلیل یہ ہے کہ قضاء سے مقصود یہ ہے کہ مستحق کو اس کا حق دلایا جائے تو غیر کے فتوی پر عمل سے یہ حاصل ہوجاتا ہے۔تبیین الحقائق ج۴ص۱۷۶۔(ت) |
شیخ الاسلام علاء الدین خفصکی عــــــہ درمختار میں فرماتے ہیں:
|
ویجوز تقلد القضاء من السلطان العادل والجائر ولو کافرا ذکرہ مسکین وغیرہ الا اذاکان یمنعہ عن القضاء بالحق فیحرم[2]۔جلد ۴ص۳۳۹۔ |
مسکین وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ سلطان عادل ہو یا ظالم ہو بلکہ کافر بھی ہو تو اس کی طرف سے قاضی کی تقرری جائز ہے مگر وہ جب قاضی کو حق پر فیصلہ سے منع کرتا ہو تو پھر تقرری حرام ہوگی۔جلد ۴ ص۳۳۹۔(ت) |
علامہ شامی کتاب ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
|
قولہ ولو کافر افی التتارخانیۃ الاسلام لیس بشرط فیہ ای فی السلطان الذی یقلد[3]۔ج۴ص۳۳۹۔ |
ماتن کا قول"اگر چہ کافر ہو"تاتارخانیہ میں ہے کہ قاضی کی تقرری کرنے والے سلطان کیلئے مسلمان ہونا شرط نہیں ہے۔ ج ۴ ص۳۳۹۔(ت) |
روایت مندرجہ بالا میں سے روایت نمبر ۱و۳و۸ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قاضی کا فرض منصبی یہی ہے کہ حقدار کی حق رسی اور مظلوم سے رفع ظلم کردے جس کےلئے نہ اس کے عالم ہونے کی ضرورت ہے اور نہ مفتی پر ہیز گار ہونے کی،اگر خود عالم ہو تو خیر،ورنہ دوسرے کے فتوٰی دینے سے اپنے اس غرض کو پورا کرے گا اور ظاہرہے کہ ایسا کرنا طاقت کے ذریعہ ہو سکتا ہے جو بادشاہ وقت کاعطیہ ہوا، روایت نمبر۵،۲سے معلوم ہوتا ہے کہ قاضی میں علم اور اتقا کی شرط اس لئے چھوڑ دی گئی ہے کہ ایسے قاضی کا ملنا جو عالم ہو اور علم کے ساتھ اتقا بھی رکھتا ہو مشکل اور سخت مشکل ہے،روایت نمبر ۶،۸
عــــــہ: صحیح حصکفی ہے حصن کیفا کی طرف نسبت ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع