30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
محمد ھو علی قضائہ فصار الکافر کالعبد والفرق ان کلامنھما لہ ولایۃ وبہ مانع وبالعتق والاسلام یرتفع،اما الصبی فلا ولایۃ لہ اصلا[1]۔ردالمحتار جلد ۴صف ۳۲۹۔ |
اگر کافر کی تقرری ہوئی پھر وہ مسلمان ہوجائے امام محمدرحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ وہ پہلی تقرری پر ہی قضاء کرے گا تو یوں کافر عبد کی طرح حکم پائے گا،اور ان دونوں اور بچے میں فرق یہ ہوگا کہ یہ دونوں ولایت کے اہل تھے لیکن ان کاکفر اور غلام ہونا عمل قضا سے مانع تھا اور اب وہ ختم ہوگیا ہے لیکن نابالغ ولایت کا اہل ہی نہیں تھا اس لئے بلوغ کے بعد دوبارہ تقرری ضروری ہے۔(ت) |
نیز فرماتے ہیں:
|
فی الخانیۃ اجمعواانہ اذاارتشی لاینفذ قضاؤہ فیما ارتشی فیہ اھ قلت حکایۃ الاجماع منقوضۃ بما اختارہ البزدوی واستحسنہ فی الفتح وینبغی اعتمادہ للضرورۃ فی ھذا الزمان والابطلت جمیع القضایا الواقعۃ الاٰن لانہ لاتخلو قضیۃ عن اخذالقاضی الرشوۃ المسماۃ بالمحصول قبل الحکم او بعدہ فیلزم تعطیل الاحکام وقدمرعن صاحب النھر فی ترجیح ان الفاسق اھل للقضاء انہ لو اعتبر العدالۃ لانسد باب القضاء فکذایقال ھٰھنا[2] ردالمحتار جلد۴ص۳۳۵۔ |
خانیہ میں ہے کہ فقہاء نے بالاجماع فرمایا کہ قاضی نے جس کیس میں رشوت لی ہے اس میں اس کی قضاء نافذ نہ ہوگی، میں کہتا ہوں یہ اجماع امام بزدوی کے مختار اس قول سے جس کو فتح میں مستحسن قرار دیا اور(فی زمانہ ضرورت کی بناپر اس پر اعتماد مناسب ہے)سے ٹوٹ جائیگا ورنہ اجماع کے پیش نظر آج تمام فیصلے باطل ہوجائیں گے کیونکہ کوئی کیس بھی قاضی کے اس عنوان کی رشوت جس کو وہ محصول کہتے ہیں،سے خالی نہیں ہے جس کو وہ فیصلہ سے قبل یا بعد وصول کرلیتے ہیں اس تمام فیصلے کا معطل ہونا لازم آئے گا جبکہ صاحب نہر کی یہ روایت گزرچکی ہے جس میں انہوں نے فاسق کی اہلیت قضاء کو ترجیح دی اور کہا ہے کہ اگر عدالت کا اعتبار کیا جائے تو پھر قضاء کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا،یہاں یہی کہا جاسکتا ہے(ت) |
علامہ جمال الدین زیلعی بجواب امام شافعی رحمہ اﷲ جن کے نزدیك جاہل کی قضاء درست نہیں ہے؛
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع