30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھوایصال الحق الی مستحقہ ورفع الظلم یحصل بہ فاشتراطہ ضائع[1]۔فتح القدیر جلد۶ص ۳۵۹۔ |
دوسرے کے فتوی پر فیصلے دینا ممکن ہے جبکہ قضاء کامقصد صرف مستحق کو عطا کرنا اور ظلم کا دفاع کرنا ہے اور وہ اس طریقہ سے حاصل ہوسکتا ہے،لہذا اجتہاد کی شرط بے مقصد ہے۔فتح القدیر جلد۶ص۳۵۹(ت) |
کتاب فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
ویکون من اھل الاجتہاد والصحیح ان اھلیۃ الاجتہاد شرط الاولویۃ کذا فی الھدایۃ حتی لو قلد جاہل وقضی ھذا الجاہل بفتوی غیرہ یجوز کذا فی الملتقط۔[2]جلد ۳ص۳۰۷ |
قاضی اہل اجتہاد سے ہو جبکہ صحیح یہ ہے کہ اجتہاد کی شرط صرف اولٰی ہونے کے لئے ہے۔ہدایہ میں ایسے ہے حتی کہ اگر جاہل کا تقرر کیا گیا اور وہ دوسروں کے فتوی پر فیصلے دے تو جائز ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے۔جلد ۳ص۳۰۷(ت) |
عبدالرحمٰن آفندی مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں فرماتے ہیں:
|
وفی الشمنی اجتماع ھذہ الشرائط من الاجتہاد والعدالۃ وغیرہما متعذر فی عصرنا لخلوالعصر عن المجتہد و العدل فالوجہ تنفیذ قضاء کل من ولاہ سلطان ذوشوکۃ وان کان جاہل فاسقا[3]۔جلد ۲ص۱۵۱۔ |
شمنی میں ہے کہ اجتہاد،عدالت وغیرہ کی شرائط کا جمع ہونا ہمارے زمانہ میں دشوار ہے کیونکہ یہ زمانہ اجتہاد اور عدل سے خالی ہے،تو صحیح وجہ یہ ہے کہ جس کو بھی صاحب شوکت سلطانی قاضی مقرر کردے اس کی قضاء نافذ ہوگی خواہ وہ فاسق جاہل ہی کیوں نہ ہو۔(ت)جلد۲ص۱۵۱۔ |
علامہ ابن عابدین کتاب ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
|
قولہ والفاسق اھلھا سیأتی بیان الفسق والعدالۃ فی الشہادات وافصح بھذہ الجعلۃ دفعا للتوھم من |
ماتن کا قول کہ فاسق قضاکا اہل ہے تو شہادات کے بیان میں فسق اور عدالت کی بحث آئے گی،ماتن نے یہ قول یہاں اس لئے بیان کیا تا کہ ان لوگوں کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع