30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرے سے بکر کا ضرر ہی نہ رہا،اس قول میں یہ ہے کہ:
|
اذاکانت الکوۃ لنظر وکانت الساحۃ محل الجلوس للنساء یمنع وعلیہ الفتوی۔ |
اگر کھڑکی دیکھنے کی غرض سے بنائی اور پڑوسی عورتوں کی نشست گاہ صرف وہی صحن والا برآمدہ ہے تو اس صورت میں کھڑکی بنانے سے منع کیا جائے گا اور اسی پر فتوٰی ہے(ت) |
یہاں وہ کہ نظرآتا ہے محل جلوس زنان نہیں سڑك ہے اور وہ کہ محل جلوس زنان ہے نظر نہیں آتا تو نہ دریچہ دریچہ نظر ہوا نہ محل محل نساء۔عقود الدریہ میں ہے:
|
سئل فی رجل لہ طبقۃ فی دارہ لہا ثلاث شبابیك مطلات علی الشارع فقط قام رجل من اھل المحلۃ یعارضہ فی اعادۃ الشبابیك المذکورۃ فہل لیس لہ معارضۃ فی ذٰلك الجواب نعم۔[1] |
سوال ہوا کہ ایك شخص کی حویلی میں اس کا بالاخانہ ہے جس میں تین کھڑکیاں ہیں جن سے صرف سڑك پر نظر پڑتی ہے تو اہل محلہ میں سے ایك شخص اٹھ کر مذکورہ کھڑکیوں پر اعتراض کرے تو کیا اس معترض کو حق اعتراض تو نہیں؟ الجواب ہاں اسے حق نہیں ہے۔(ت) |
بالجملہ صورت مسئولہ میں دعوی بکر ہمارے ائمہ متقدمین وعلمائے متاخرین کسی کے قول پر اصلًا قابل سماعت نہیں نیز بیان مذکور سے ظاہر ہوا کہ اس حالت میں اس کا انسداد چاہنا شرط چہارم سے مردود ہے کہ ضرر ممکن التحرز تھا اوراس کا چارہ کار عمرو نے کردیا جسے حسب بیان سائل بکر نے بھی قبول کیا اور تین سال تك اس پر راضی رہا اور یہ گمان کہ اگرچہ سائبان قبضوں سے جڑدئے گئے مگر قبضے اکھڑ واسکتے ہیں اور ایسا کیا تو پھر بے پردگی ہوگی شرط سوم سے مردود ہے کھلے ہوئے طاقچے تك سیڑھی لگا کر چڑھ جانا آسان ہے یا جڑے ہوئے قبضے اکھیڑ کر سائبان اٹھادینا جب اس صورت کا احتمال قریب مسموع نہ ہوا یہ احتمال بعید کیونکر مسموع ہوسکے گا اور اگر ایسے مہمل احتمالات مان لئے جائیں تو دریچے مٹی یا چوکوں سے بند کردینا کیا نافع ہوگا جو مضبوط جڑے ہوئے قبضے اکھیڑ کر سائبان اٹھاویگا کیا وہ مٹی کی چھاپ میں روزن نہیں کرسکتا یا ایك آدھ چوکا نہیں نکال سکتا بلکہ غالبًا یہ اس سے آسان تر ہوگا تو دعوٰی انسداد محض تعنت ہوا اور متعنت کا دعوی مسموع نہیں ہوسکتا یہ توحکم،رہا بکر کا وہم اس کا علاج اور نیز اس سے زیادہ استحکام کے سوال کا جواب وہی ہے جو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع