30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ینبغی ان یقال فی ھذہ لیس للجارحق المنع من الصعود وان کان بصرہ یقع فی دارجارہ،الاتری ان محمد ارحمہ اﷲ تعالٰی لم یجعل لصاحب الساحۃ حق منع صاحب البناء عن فتح الکوۃ فی علوہ مع ان بصرہ یقع فی الساحۃ[1]۔ |
اس بناء پر یہ حکم مناسب ہے کہ پڑوسی کو یہ حق نہیں کہ دوسرے کو اپنے مکان پر چڑھنے سے منع کرے اگرچہ چھت پر جانے سے پڑوسی کے گھر نظر پڑتی ہو،آپ دیکھتے نہیں کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے صحن والے کو حق نہیں دیا کہ وہ بالاخانہ والے کوکھڑکی نکالنے سے منع کرے حالانکہ ظاہر ہے کہ اوپر کھڑکی سے صحن میں نظر پڑتی ہے۔(ت) |
کتاب الحیطان امام حسام شہید و بحرالرائق و خلاصہ ووجیز کردری وانقرویہ وغیرہا میں ہے:
|
لو فتح صاحب البناء فی علوبنائہ بابا او کوۃ لایلی صاحب الساحۃ منعہ بل لہ ان یبنی مایستر جھتہ[2]۔ |
اگر عمارت والا اپنے بالاخانے سے کھڑکی یا دروازہ نکالے تو صحن والے کو حق نہیں بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ اپنی طرف کوئی پردہ لگائے(ت) |
ارباب الفتوٰی میں ہے:
|
رجل وکل وکیلا عن زوجتہ باع لھا قطعۃ ارض لجارہ،لہ ان یفتح طیاقا مطلۃ علی حوش الموکلۃ المذکورۃ ولیس لہا ان تمنعہ فان استضرت منہ تبنی جدارا فی ارضھا [3]اھ ملخصا۔ |
ایك شخص نے اپنی بیوی کی طرف سے وکیل بنایا تاکہ بیوی کی زمین کا کچھ حصہ پڑوسی کو فروخت کرے،اگر پڑوسی نے وہاں سے کھڑکی نکالی جس سے مؤکلہ عورت کی چار دیواری میں نظر پڑتی ہو تو عورت اسے منع کرنے کا حق نہیں رکھتی اگر وہ اس سے ضرر محسوس کرتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی زمین میں پردہ کےلئے دیوار بنالے اھ(ت) |
ان کے حکم سے بھی بکر کو کچھ اختیار دعوٰی نہیں۔رہا قول مضمرات وغیرہا جس میں اس صورت کو داخل فتوائے متاخرین مانا اور بیشك ہمارے بلاد میں یہی اوفق وارفق ہے اس قول پر بھی بکر کو اصلًا راہ دعوٰی نہیں کہ جب ان پر جست کے سائبان جڑوادئے جن کے بعد صرف سڑك کا سامنا رہا توضرر کثیر فاحش درکنار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع