30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ہے:
|
الدار اذاکانت مجاورۃ للدور فارادصاحبھا ان یبنی فیہا تنورا للخبز الدائم کما یکون فی الدکاکین او رحی للطحین او مدقات للقصارین لم یجز لان ذلك یضر بجیرانہ ضررافاحشا لایمکن التحرز عنہ، فانہ یاتی منہ الدخان الکثیر الشدید،و رحی الطحن ودق القصارین یوھم النباء بخلاف الحمام فانہ لا یضر الا بالنداوۃ ویمکن التحرز عنہ بان یبنی حائطا وبین جارہ وبخلاف التنور الصغیر المعتاد فی البیوت[1]۔ |
ایك مکان دوسرے مکان سے ملا ہو ا ہو تو ایك مکان والا اپنے مکان میں دائمی کاروباری تنور روٹیوں کےلئے یا آٹا پیسنے کے لئے چکی یا دھوبی گھاٹ بنائے تو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس سے پڑوس کو کھلا ضرر ہے جس سے بچنا ممکن نہیں ہے کیونکہ کثیر وشدید دھواں وہاں سے آئے گا اور چکی اور دھوبی گھاٹ سے پڑوس والے مکان کی عمارت کمزور ہوتی ہے اس کے برخلاف حمام ہوتو جائز ہے کیونکہ اس سے رطوبت کا نقصان ہے لیکن اس سے بچنا ممکن ہے کہ اپنے اور پڑوس کے درمیان دیوار بنادے،اسی طرح گھریلو تنور جو کہ عادتًاگھروں میں ہوتا ہے وہ بھی جائز ہے(ت) |
جب یہ اصل منقح ہولی مسئلہ دائرہ کی طرف چلئے،یہ تو پہلے معلوم ہولیا کہ ہمارے جملہ ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے مذہب مہذب مصحح مرجح پر تو دعوی بکر سرے سے بے بنیاد ہے اور بہت اکابراس صورت کو فتوائے متاخرین سے بھی جدا مانتے ہیں اور اس پر وہی اصل حکم ائمہ جانتے ہیں کہ بالا خانے میں دروازہ ودریچہ نکالنے سے اصلًا منع نہ کیا جائے گا جس کی بے پردگی ہو وہ اپنا پردہ بنالے اپنی دیوار اونچی کرلے۔امام عمادالدین نے فصول میں باآنکہ قول متاخرین اختیارکیا،اس مسئلہ میں عدم منع ہی کو موید فرمایااور محقق علی الاطلاق نے اسے مقرر رکھا،فتح میں بعد نقل مسئلہ مذکور فتاوٰی امام سمر قندی میں فرمایا:
|
قال فی فصول العمادی وعلی قیاس المسألۃ المتقدمۃ وھی ان لایمنع صاحب الساحۃ من ان یفتح صاحب العلوکوۃ |
فصول عمادی میں فرمایا:پہلے مسئلہ پر قیاس کے طور اور وہ یہ کہ صحن والا بالاخانے والے کو روشندان اور کھڑکی نکالنے سے منع نہیں کرسکتا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع