30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوی امام فقیہ ابوللیث رحمہ اﷲتعالٰی پھر فتح القدیر وجامع الفصولین میں ہے:
|
واللفظ لہ لو لا یقع بصرہ فی دار جارہ ولکن یقع بصرہ علیہم لو کانواعلی السطح لایمنعہ اذا استویافی الضرر لانہ این کان یقع بصرہ علیہم یقع بصرھم علیہم ایضا فی السطح کذا[1]۔ |
لفظ جامع الفصولین کے ہیں،اگر مکان والے کی نظر پڑوسی کے گھر میں نہیں پڑتی لیکن اگر پڑوس والے چھت پر اور کھلی جگہ ہوں تو نظر پڑتی ہے تو ایسی صور ت میں پڑوسی کو منع کرنے کا حق نہیں ہے جبکہ دونوں اس ضر ر میں برابر ہیں کیونکہ جب ایك کی نظر پڑے گی تو دوسرے کی بھی ان پر نظر پڑے گی جب چھت پر ہوں گے۔(ت)اسی طرح وجیز کردری میں ہے۔ |
شرط سوم:وہ ضرر ثابت و متحقق ہو محتمل و متوقع معتبر نہیں مثلا چھت کے قریب بلند دیوار میں تابدان ہیں کہ اگر سیڑھی لگا کر اوپر چڑھ کر جھانکے تو ہمسایہ کے زنانے کا سامنا ہو اس کا اعتبار نہ ہوگا اور وہ روشندان بند نہ کئے جائیں گے۔عقود الدریہ میں ہے:
|
سئل فی رجل لہ قاعۃ رفیعۃ البناء ملا صقۃ لدار جارہ ففتح فی اعلاھا بالقرب من سقفہا قمریتین للضوء فقط لیس فیہما اشراف علی حریم الجار الابالصعود الیہما بسلم عال قام جارہ الاٰن یکلفہ سدھما بدون وجہ شرعی فہل یمنع الجار من ذٰلک،الجواب نعم[2]۔ |
ان سے ایك شخص کے متعلق سوال ہوا کہ اس کا بڑا بلند مکان ہو اس کے ساتھ ملا ہوا پڑوسی کا مکان ہے تو بلند محل والے اس شخص نے روشنی کےلئے چھت کے قریب اپنے مکان میں دوروشندان پڑوسی کی طرف نکالے جبکہ ان روشندانوں سے پڑوس کے اہل خانہ کوجھانکنے کا کوئی ذریعہ نہیں ماسوائے اس کے کہ بلند سیڑھی لگا کر ان سے جھانکا جائے تو اب پڑوسی ضد کرکے ان روشندانوں کو کسی شرعی وجہ کے بغیر بند کرائے تو کیا پڑوسی کو اس سے روکا جائیگا جواب دیا کہ ہاں پڑوسی کو اس مطالبہ سے منع کیا جائے گا۔(ت) |
شرط چہارم:وہ ضرر ناممکن الاحتراز ہو یعنی جس تصرف سے پیدا ہوابے اس کے ازالہ کے اور کوئی چارہ کار نہ ہو ورنہ منع تصرف لازم نہ ہوگا۔بحرالرائق میں کتاب الاستحسان امام ابوبکر رازی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع