30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالبین وھو مایکون سببا للھدم وما یوھن البناء سبب لہ اویخرج عن الانتفاع بالکلیۃ وھو مایمنع من الحوائج الاصلیۃکسد الضوء بالکلیۃ،واختار واالفتوی علیہ واما التوسع الی منع کل ضرر ما فیسد باب الانتفاع بملك الانسان کما ذکرنا قریبا[1] (ملتقطا) |
گرنے یا کمزور ہونے کا خطرہ ہو،مراد ہے یاایسا ضرر کہ دوسرے کو اپنی ملکیت کے انتفاع سے بالکل محروم کردے وہ یہ کہ اس کو اپنی حوائج اصلیہ سے روك دے،مثلًا بالکل روشنی کا ختم ہوجانا فقہاء کرام نے اسی پر فتوٰی کو مختار قراردیا ہے لیکن یہ کہ ہر ضرر کو ممنوع قرار دینے تك توسیع تو انسان کو اپنی ملکیت سے انتفاع سے محروم کردیگی جیسا کہ قریب ہی ہم نے ذکر کیا ہے(ملتقطا)۔(ت)اسی طرح عقود دریہ میں حواشی اشباہ علامہ بیری زادہ سے ہے۔ |
شرط دوم:اس ضرر میں اس کا فعل مستقل ہو فعل جار کو اس میں دخل نہ ہو ورنہ اصلًا لحاظ نہ ہوگا مثلًا اس کی چھت سے جار کے زنانہ کا سامنا نہیں مگر زنانہ کے پاس کوئی باغیچہ اور مکان ہے اس کا سامنا ہے یا اس کی چھت سے جار کی چھت ملی ہوئی ہے اور آڑ نہیں کہ عورتیں اس باغیچہ یا اپنی چھت پر آئیں اور یہ اپنی سقف پہ جائے تو بے پردگی ہو یہ ضرر میں محسوب نہیں کہ زنانہ کا سامنا نہیں عورتیں ایسی جگہ کیوں آئیں یہ جار کا فعل ہوا۔تنقیح الحامدیہ میں ہے:
|
لزید طبقۃ فیہا طاقۃ قدیمۃ مقابلۃ لقصر ورواق حادثین فی دار جارہ عمر وفقام عمروویکلفہ سد الطاقۃ زاعما انھا تشرف علی القصر والرواق المذکورین والحال انھما لیسا محل قرار نسائہ و جلوسھن بل محلہ سفل الدار،فھل لیس لہ تکلیفہ بذٰلك [2]۔ |
زید کے مکان کی دوسری منزل ہے جس میں قدیم کھڑکی ہے اور کھڑکی مقابل پڑوسی عمرو کی حویلی میں جدید برآمدہ اور باغیچہ ہے عمرو ضد کرکے کھڑکی کو بند کرانے پر اس خیال سے مجبور کرے کہ کھڑکی والا باغیچہ اور بر آمدہ مذکورہ کو جھانکتا ہے حالانکہ وہ باغیچہ اور برآمدہ کی مستورات کی آرام گاہ اور نشستگاہ نہیں بلکہ مستورات کی اصل وہ جگہ مکان کی پست جگہ میں ہے تو ایسی صورت میں عمرو کو یہ حق نہیں کہ وہ کھڑکی والے کو بندکرنے پر مجبور کرے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع