30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا:والوجہ لظاہرالروایۃ [1](معتبر وجہ ظاہر روایت کےلئے ہے۔ت)اور معلوم ہے کہ فتوٰی جب مختلف ہو تو ظاہر الروایۃ پر عمل واجب ہے۔
|
کما فی البحر والخیریۃ وردالمحتار وغیرہا عامۃ الاسفار۔ |
جیسا کہ بحر،خیریہ اور ردالمحتار وغیرہا عام کتب میں ہے۔(ت) |
اس تقدیر پر تو دعوٰی سرے سے بے بنیاد ہے مگر متاخرین نے بنظر مصلحت وحدیث:
|
لاضررولاضرار[2]۔رواہ احمد عن عباس وابن ماجۃ عنہ وعن عبادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم بسند حسن۔ |
ضرررسانی جائز نہیں۔اس کو احمد نے عباس سے اور ابن ماجہ نے ان سے اور عبادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بسند حسن روایت کیا(ت) |
بطور استحسان دفع ضرر بین پر نظر کی ہے اقول: غیر فقیہ اس سے یہ گمان کرتا ہے کہ بین کے معنی ہیں ظاہر وواضح،تو کیسا ہی ضرر کسی حالت میں ہو جبکہ مخفی نہ ہو مالك کو اپنی ملك میں تصرف سے باز رکھنے کا پروانہ ہے حالانکہ یہ محض وہم وسوئے فہم ہے۔شرع مطہر نے ملك کی وضع اطلاق تصرف کے لئے فرمائی ہے مالك کو اس کی ملك میں تصرف سے روکنا کیا ضرر نہیں،اور حدیث فرماتی ہے:لاضرر ولاضرار[3] (ضرر رسانی جائز نہیں۔ت) تو کیا وجہ ہے کہ مطلقًا دوسرے کے ضرر کو خود مالك کے ضرر پر ترجیح دی جائے حالانکہ یہ ترجیح بلا مرجح بلکہ بارہا ترجیح مرجوح ہے کہ مالك صاحب حق ہے اور صورت یہ مفروض ہے کہ دوسرے کا اس ملك سے حق متعلق نہیں کما فی السفل لرجل والعلو لاٰخر(جیسے نچلا حصہ ایك کا ہو اور بالائی حصہ دوسرے کا۔ت)ایك شخص کے مکان میں نہایت وسیع سایہ دار گنجان درخت ہے اس کے برابر ایك محتاج کا گھر ہے جس پر سایہ اس درخت ہی کا ہے بلا شبہہ اس کے قطع میں جار کا اضرار ہے مگر ہر گز مالك اس سے ممنوع نہیں ہوسکتا۔فتح القدیر وجامع الفصولین میں فرمایا:
|
واللفظ للجامع رجل لہ شجرۃ یستظل بھا جارہ اراد قلعھا لایمنع منہ ولو تضرربہ جارہ اذرب الشجرۃ بالقلع یمنعہ عن الانتفاع |
کسی شخص کا درخت ہو اور اس کا پڑوسی اس سے سایہ حاصل کرتا ہے اور مالك درخت اکھاڑ نا چاہتا ہے تو پڑوسی کے ضرر کی وجہ سے مالك کو اکھاڑنے سے نہ روکا جائے گا،ہوسکتا ہے کہ درخت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع