30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
جب صورت واقعہ یہ ہے کہ سوال میں مذکور ہوئی تو اس صورت میں بکر کا دعوٰی باطل ونامسموع اور ہمارے ائمہ متقدمین و متاخرین کے اجماع سے مردود و مدفوع ہے،ہمارے جمیع ائمہ کرام رضی اﷲ عنہم کا اصل مذہب تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنی ملك خاص میں جس سے دوسرے کا حق متعلق نہ ہو ہر قسم تصرف کا اختیار رکھتا ہے اگرچہ اس سے بالتبع دوسرے کا ضرر لازم آتا ہو، بہت اکابر نے اسی پر فتوٰی دیا۔درمختار میں ہے:
|
ظاہر الروایۃ عدم المنع مطلقًا وبہ افتی طائفۃ کالامام ظہیرالدین و ابن الشحنۃ ووالدہ ورجحہ فی الفتح وفی قسمۃ المجتبٰی وبہ یفتی واعتمدہ المصنف ثمہ فقال وقد اختلف الافتاء وینبغی ان یعول علی ظاہر الروایۃ[1]۔ |
ظاہر روایت مطلقًا عدم منع پر ہے اسی پر ایك جماعت مثلًا امام ظہیر الدین،ابن شحنہ اور ان کے والد کا فتوٰی ہے اور فتح میں اسی کو ترجیح دی ہے اور مجتبٰی کی قسمت کی بحث میں"بہ یفتی یعنی اس پر فتوٰی ہے"فرمایا،اور مصنف نے اسی پر اعتماد کرتے ہوئے وہاں فرمایا کہ فتوٰی مختلف ہے اور مناسب یہی ہے کہ ظاہر روایت پر اعتماد کیا جائے۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
وذکر العلامۃ ابن الشحنۃ ان فی حفظہ ان المنقول عن ائمتنا الخمسۃ ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد و زفر والحسن بن زیاد انہ لایمنع عن التصرف فی ملکہ وان اضر بجارہ قال وھو الذی امیل الیہ و اعتمدہ وافتی بہ تبعا لوالدی شیخ الاسلام رحمہ اﷲ تعالٰی [2]۔ |
علامہ ابن شحنہ نے فرمایا کہ میری یاد میں ہےکہ ہمارے پانچوں ائمہ ابو حنیفہ،ابویوسف،محمد زفر اور حسن بن زیاد رحمہم اﷲ تعالٰی سے ثابت ہے کہ کسی کو ذاتی ملکیت میں تصرف منع نہیں کیا جائے گا اگرچہ پڑوسی کو ضرر ہو۔اور فرمایا اسی کی طرف میرا میلان ہے اور اعتماد ہے اور اپنے والد شیخ الاسلام کی اتباع میں میرا یہی فتوٰی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع