دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

لکن ھذااذااتھم رأی نفسہ ففی الھندیۃ عن المحیط [1]ونقل ماذکرناہ بمعناہ۔

لیکن یہ تب جائز ہے کہ اپنی رائے کو اس کے مقابلہ میں اہم نہ جانے،تو ہندیہ میں محیط سے معنًا وہ نقل کیا جس کو ہم نے ذکر کیا ہے۔(ت)

یہ احکام قسم اول کے تھے۔

قسم دوم: میں یعنی جہاں جہاں شرعًا اسے اختیار دیا گیا ہے تین صورتیں ہیں ایك یہ کہ وہ انجمن کسی وقف سے متعلق ہو اور یہ امر دائر شروط واقف میں داخل۔اس صورت میں جو شرط واقف کا مقتضی ہو اس پر عمل کیا جائے خواہ رائے صدر یا اراکین یا بعض کے موافق ہو یا سب کے خلاف کہ شرط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہے کما نصواعلیہ الافیما استثنی وھو مفصل فی الاشباہ والغمز وحواشی الدر وغیرھا(جیسا کہ انہوں نے کااس پر نص فرمائی ماسوائے ان استثنائی صورتوں کے جن کی تفصیل اشباہ غمز اور حواشی الدر وغیرہا میں ہے۔ت)دوم چندہ سے اس کی کارروائی ہو اور امر دائر متعلق بمال،اس صورت میں چندہ دہندوں کی رائے کا اتباع ہے صدر واراکین ان کے خلاف اجازت صرف مال کے مختار نہیں لان المال فی ھذہ الصورۃ لایخرج عن ملك المعطین کما حققناہ فی کتاب الوقف من فتاوٰنا(کیونکہ عطیہ دینے والوں کی ملکیت سے اس صورت میں مال خارج نہ ہوگا جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی کی کتاب الوقف میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)جیسے قسم اول سے دو صورتیں ملتحق بقسم دوم ہوئی تھیں یوہیں قسم دوم سے یہ صورتیں راجع بہ قسم اول ہیں کہ معارض وقف وملك غیران میں جانب شرع سے تحدید ہوگئی تخییر نہ رہی۔سوم ان دونوں کے علاوہ یعنی وقف ہو تو امر دائر کو کسی شرط واقف سے تعلق نہ ہو یا چندہ کا کام ہو تو امر دائر متعلق بمال نہ ہو یا چندہ دہندوں کی طرف سے انجمن کو اذن عام ہو حقیقتًا یہی صورتیں قسم دوم ہیں یہاں اگر اس امر میں صدر ذی راء نہیں اور اراکین جیسا کہ سوال میں ہے ماہر فن،جب توظاہر کہ وہاں سے اپنی رائے پر وثوق بے معنی ہے غایت یہ کہ کسی خاص معاملہ میں کسی وجہ سے رائے اراکین میں اسے کوئی شبہ ہے تو اور متدین ماہروں سےتفتیش کرکے اطمینان کرلے،بالجملہ یہ صورت شکل سوم کے مقارب اور اصالۃً یہاں ویسی ہی طرز عمل مناسب،یوہیں اگر صدر خود بھی اس امر کا ماہر ذی رائے ہے تو یہ صورت شکل اول کے مشابہ ہوگی مگر از انجا کسی طرف کوئی مطالبہ شرعی نہیں، بہر صورت یہاں مصلحۃً صدر کو یہی مناسب ہے کہ کثرت رائے


 

 



[1] ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۰۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن