30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الاصابۃ فیھا اکثر عند من لا یعلم وھو اعذر لہ عند ربہ عزوجل(کیونکہ اکثریت کی رائے میں درستگی کا احتمال زیادہ ہے یہ چیز نہ جاننے والے کے لئے عنداﷲ بڑا عذر ہے۔ت)اور اگر کثرت بھی کسی طرف نہ ہو مثلا چار متفقہ ہیں دو ایك طرف دو ایك طرف،تو جس طرف دل گواہی دے کہ یہ احسن یا احوط فی الدین ہے اس طرف میل اولی ہے۔ورنہ مختار ہے جس پر چاہے عمل کرے اور اب یہ صورت قسم دوم کی طرف راجع ہوجائے گی۔معین الحکام میں ہے:
|
ذکر الحسن بن زیاد فی ادب القاضی لہ الجاھل بالعلم اذا استفتی فقیھا فافتاہ بقول احد اخذ بقولہ ولا یسعہ ان یتعدی الی غیرہ،وان کا ن فی المصر فقیھان کلاھمارضا یأخذ عنھما،فان اختلفا علیہ فلینظر ایھما یقع فی قلبہ انہ اصوبھما وسعہ ان یاخذ بہ،فان کانوا ثلثۃفقھاء واتفق اثنان اخذ بقولھما ولا یسعہ ان یتعدی الی قول الثالث۔[1] |
حسن بن زیاد نے اپنی ادب القاضی میں ذکر کیا ہے کہ کوئی جاہل جب کسی فقیہ سے سوال کرے اور وہ اسے کسی ایك قول پر فتوی دے تو وہ اس فتوی کو اپنائے اور غیر کی طرف جانے کی اس کو اجازت نہیں۔اگرشہر میں دو مساوی فقیہ ہوں تو دونوں سے چاہے رجوع کرے،اگر دونوں میں اختلاف ہو تو اسے چاہئے کہ غور کرے جس کی بات دل میں درست سمجھے اس کو اپنائے تو یہ جائز ہے اور اگر شہر میں تین فقیہ ہوں اور دو کی رائے متفق ہو تو ان کی بات کو اپنائے اور تیسرے کی طرف رجوع کی گنجائش اسے نہ ہوگی(ت) |
رد المحتار میں ہے:
|
قال فی الفتح وعندی انہ لواخذ بقول الذی لا یمیل الیہ قلبہ جاز لان ذلك المیل وعدمہ سواء [2]الخ۔ اقول:عارضہ ماذکر الامام الحسن بن زیاد وھو من ائمتنا المجتھدین |
فتح میں کہا ہےکہ اگر اس قول کو اپنایا جس کی طرف قلبی میلان نہیں تو میرے نزدیك جائز ہے کیونکہ اس کا میلان اور عدم میلان برابر ہیں۔(ت)اقول:(میں کہتا ہوں امام حسن بن زیادکا ذکر کردہ قول اس کے معارض ہے جبکہ وہ ہمارے امام اعظم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع