30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانب دیا گیا یا دوسرے جانب کی ترجیح ان وجوہ پر کہ خادم فقہ جانتا ہے ضعیف و مضمحل ہے بہر حال دوسرا قول ناقابل اخذ ہے،
|
فان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع [1]درمختار عن تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم۔ |
تو بالتحقیق فتوی اور فیصلہ مرجوح قول پر کرنا جہالت ہے اور اجماع کے خلاف ہے،یہ درمختار میں علامہ قاسم کی تصحیح القدوری کے حوالہ سے ہے۔(ت) |
اس صورت میں اسی حکم کا اتباع واجب ہے خواہ وہ رائے صدر ہو یا رائے اراکین کل یا بعض ہو یا سب کے خلا ف ہو اذ لا حکم لاحد مع الشرع المطہر(شریعت مطہرہ کے مقابلہ میں کوئی حکم معتبر نہیں۔ت)اور دوسری صورت یہ کہ دونوں قول بلا ترجیح آراء ہوں یا ترجیح دونوں طرف متکافی ہو یہ صورت قسم دوم سے ملتصق ہے کہ ایسی حالت میں مکلف مختار ہے جس پر چاہے عمل کرے۔درمختار میں ہے:
|
فی وقف البحر وغیرہ متی کان فی المسألۃ قولان مصححان جاز القضاء والافتاء باحدھما[2]۔ |
بحروغیرہ وقف میں ہے،جب کسی مسئلہ میں دو مختلف قول ہوں اور وہ صحیح قرار دئے گئے ہوں تو ان میں ایك پر فتوٰی اور قضاجائز ہے۔(ت) |
ردالمحتار کتاب القضاء میں ہے:
|
ومثلہ یقال فی المقلدین فیما لم یصرحوا فی الکتب بترجیحہ واعتمادہ[3] |
کتب میں جس مسئلہ پر ترجیح نہ ہو تو دو مقلدوں کے متعلق یہی بات کہی جائے گی(ت) |
او رجس کا حکم کتب میں نہیں تو اب چار صورتیں ہیں یا تو صدر وار اکین سب فقیہ متفقہ صاحب نظر و تصرفات صحیحہ ہیں یا صرف صدر یا صرف اراکین کل یا بعض کوئی نہیں،بہر حال اس میں جو ایسا نہ ہو اس کی رائے کا کچھ اعتبار نہیں صدر ہو یا رکن تو شکل چہارم میں صدر واراکین سب کی رائے امر شرعی میں مہمل ومعطل ہے اگرچہ ایك ہی رائے پر متفق ہوں بلکہ ان پر فرض ہے کہ اہل علم فقیہ متفقہ کی طرف رجوع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع