30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح محیط پھر ہندیہ میں ہے:
|
(وزاد)وینبغی ان یکون ھذاعلی قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اما علی قول محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فتعتبر کثرۃ العدد ثم قال وان لم یکن القاضی من اھل الاجتہاد وقد وقع الاختلاف بین اھل الفقہ اخذ بقول من ھوا فقہ واورع عندہ [1]۔ |
اور انہوں نے یہ زائد بات کی کہ یہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا قول ہونا مناسب ہے لیکن امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول پر کثرت عدد کا اعتبار ہے،اور پھر فرمایا اگر قاضی اہل اجتہاد میں سے نہ ہو تو فقہاء کرام کے اختلاف کی صورت میں زیادہ فقیہ اور پر ہیز گار کے قول کو اپنائے۔(ت) |
نیز معین الحکام میں ہے:
|
وان اختلفواعلی الامیر فرأی بعضھم رأیا،ورأی بعضھم رأیا غیرہ لم یمل مع اکثر ھم ولکن ینظر فیما اختلفوا فیہ،فمارأہ صوابا قضی بہ وانفذہ، و کذٰلك ینبغی للقاضی ان یفعل ذٰلك اختلف علیہ المشاورون من الفقہاء [2]۔ |
اگر مشورہ دینے والوں میں اختلاف ہو کسی کی رائے کچھ اور کسی کی رائے کچھ ہو تو اکثریت کی رائے پر عمل نہ کرے بلکہ غور کرکے درست رائے قائم کرے اور اس پر عمل کرتے ہوئے فیصلہ دے کر نافذ کردے،اور قاضی کو بھی یہی کرنا چاہئیے جب مشورہ دینے میں فقیہ لوگوں میں اختلاف پایا جائے۔(ت) |
عمروبکر وغیرہماکے استدلال محض باطل ہیں اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ من فی النار [3](جو جد اہوا وہ جہنم میں گیا۔ ت)کی وعید صرف دربارہ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں،صحابہ کرام سے ائمہ اربعہ تك رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں،سیدنا ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا مطلقًا جمع زرکو حرام ٹھہرانا،ابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جاننا،عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کا مسئلہ ربا،امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کامسئلہ مدت رضاع،امام شافعی رضی اﷲتعالٰی عنہ کا مسئلہ متروك التسمیہ عمدًا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع