30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولہ جار بجانبہ والرجل المذکور فی البیت متصرف فی البیت المزبور ھدما وعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرفہ فی المدۃ فھل اذا ادعی البیت اوبعضہ بعد ماذکر من تصرف الرجل المذکور فی البیت ھدمًا وبناءً فی المدۃ المذکورۃ تسمع دعواہ ام الاجاب، لاتسمع دعواہ علٰی ماعلیہ الفتوی [1]۔ |
اور شخص مذکور اس کمرہ میں ہر طرف کا تصرف گرانا،بنانا کرتا چلا آرہا ہے اس کے پڑوس میں دوسرا شخص ہے جو مذکورہ مدت سے اس کے تصرفات مذکور کو دیکھ رہا ہے،تو کیا اس پڑوسی کو اس کمرہ کے کل یا بعض پر دعوٰی کا حق ہے باوجود یکہ وہ سب کچھ تصرفات دیکھتا رہا ہو۔جواب دیا کہ اس دعوٰی سماعت نہ ہوگی مفتی بہ قول کے مطابق(ت) |
وجیز کردری میں ہے:علیہ الفتوی قطعا للاطماع الفاسدۃ [2](اس پر فتوٰی فاسد طمع کو ختم کرنے کےلئے ہے۔ت) رد المحتار میں ہے:
|
مجرد السکوت عند الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی،قولہ زرعا وبناء المراد بہ کل تصرف لایطلق الاللمالك فھما من قبیل التمثل،قولہ لاتسمع دعواہ ای دعوی الاجنبی ولو جارا [3]۔ |
تصرفات مذکورہ پر اطلاع کے باوجود خاموشی دعوی کےلئے مانع ہے،ماتن کا قول''زراعت وتعمیر'' سے مراد تمام ایسے تصرفات جوصرف مالك کےلئے جائز ہیں یہ دونوں بطور تمثیل ذکر کئے،اس کا قول اس کا دعوٰی نہ سنا جائے گا یعنی ہر اجنبی کا خواہ پڑوسی ہو۔(ت) |
عقود الدریہ میں ہے:
|
مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی،ولم یقیدوہ بمدۃ ولابموت،ولیس مبنیا علی المنع السلطانی بل ھو حکم اجتہادی نص علیہ الفقہاء [4] ملتقطا،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تصرفات پر اطلاع ہی دعوٰی سے مانع ہے کسی مدت یا موت کی قید کے بغیر یہ بات فقہاء نے ذکر ہے،یہ حکم سرکاری پابندی کی بناء پر نہیں ہے بلکہ یہ اجتہادی حکم ہے جس کو فقہاء نے بالاتفاق بیان کیا ہے ملتقطا،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
[1] العقود الدریہ بحوالہ فتاوٰی غزی کتاب الدعوٰی ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴
[2] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب النکاح الفصل التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۲۶
[3] ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۴۷۴
[4] العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الدعوی ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع