دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

چودھری کا حلف مانگے تو چودھری پر حلف آئے گا کہ مجھے ادا نہ کئے میرا مطالبہ اس پر اب تك ہے اگر چودھری قسم سے انکار کرے تو کچھ نہ پائے اور قسم کھالے تو ڈگری دیا جائے۔رہے چودھری کے گواہ کہ تونے نہیں دئے اصلًا معتبر نہیں کہ شہادت نفی ہے اورنفی پر گواہی مقبول نہیں اور یہاں یہ ٹھہرانا کہ گواہ کے ہوتے حلف کی ضرورت نہیں محض بے معنی ہے،نہ چودھری پر گواہ ہیں نہ اﷲ دین پر حلف۔

وھذاکلہ ظاھر لمن لہ ادنی المام بخدمۃ الفقہ الشریف فلم یکن لیقع فیہ الارتیاب ولکن لاحول ولاقوۃ الابتوفیق العزیز الوھاب۔

یہ تمام ظاہر ہے اس شخص پر جس کو فقہ شریف کی خدمت میں ادنی حصہ بھی ہے تو اس میں شك نہیں ہونا چاہئے،لیکن اقدام اور قوت اﷲ تعالٰی کی توفیق کے بغیر نہیں۔(ت)

اس قدر صورت کا تو حکم یہ تھا اور سال میں اکثر عبارات سائلین اپنے فہم کے لائق بالمعنی نقل کرتے ہیں اور جہاں اختلاف لفظ سے حکم بدلتا ہے وہاں ان کے سبب دقت واقع ہوتی ہے اور حق رسی دشوار ہوجاتی ہے خصوصًا بہت خدا ناترس وکلائے مفتعلہ ساختہ الفاظ تعلیم کرتے ہیں جن سے کمی پوری ہوجائے اور یہ سخت مزلہ اقدام ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی،پس اگرشہادت عادلہ شرعیہ متفقہ سے ثابت ہوا کہ اﷲ دین نے وہ لفظ کہے کہ اچھا میں ان اشرفویں کے تیس روپے وقت حساب مجرادوں گا،یہ تو ضرور اقرار ہے کہ اسی زر مدعٰی کا دینا مانتا ہے اور اقرار کے بعد انکار مسموع نہیں،روپے دینا ہوں گے،اور اگر انتا کہنا ثابت ہوکہ اچھا میں تیس روپے وقت حساب مجرادوں گا تو اسے اقرار ٹھہرانا محل تامل ہے،ظاہر عبارت سوال یہ ہے کہ یہ کلام مبتداء ہے اور مجرادوں گا وعدہ ہے اور وعدہ کہ کلام مبتدا میں ہو اقرار نہیں اور اچھا کہ بعد منازعت کہا معنی قبول عطا قطعاللنزاع کا احتمال رکھتا ہے اور قبول عطا قبول وجوب نہیں اور اقرار قبول وجوب ہے اور اب زرمدعی کی طرف اشارہ اور مجرا دینا دادنی ہونا چاہتا ہے اور کلام مبتداء میں کوئی مال دادنی ماننا بھی اقرار نہیں فلیثبت فیہ۔فتاوٰی قاضی خان میں ہے:

الاصل فیہ ان الکلام اذاخرج علی وجہ الکنایۃ عن المال الذی ادعاہ المدعی یکون اقرارا،رجل قال لغیرہ اقض الالف التی لی علیك فقال ساعطیکھا اوغدا اعطیکہا اوفاتزنہا اوانتقدھا

قاعدہ یہ ہے کہ مدعی علیہ کی ایسی کلام جس سے مدعی کے دعوی مال کا کنایہ بنتا ہو تو وہ اقرار ہوگا ایك شخص دوسرے کو کہے کہ وہ ہزار جو میرا تیرے ذمہ ہے اس کو ادا کر،تو وہ جواب میں کہے یہ دوں گا یا یہ کل دوں گا،یا ان کو وزن کر،یا انکو گنتی کر،تو یہ مدعی کی

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن