30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یتوقع ضررمن غیر المقر لولاھا فیکون ھذااصل کما فیہ ایضا اقول: والوجہ فیہ ان الاقرار حجۃ ملزمۃ بنفسہ من دون حاجۃ الی قضاء القاضی ولذایصح فی غیرمجلس القضاء ونصوا ان القضاء علی المقر قضاء مجازا و الشہادۃ انما ھی یسمعھا القاضی فیلزم فاقامتھا علی المقر سعی فی تحصیل الحاصل وھو باطل بخلاف ما اذا افادت فائدۃ لم یفدھا الاقرار وھی التعدیۃ لان الاقرار حجۃ قاصرۃ[1]۔ |
تو وہاں غیر مقر کی طرف سےضررکا خطرہ ہو،تو یہ قاعدہ ہوگا جیسا کہ یہ بھی اسی میں ہے اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں وجہ یہ ہے کہ اقرار ایسی حجت ہے جو معاملہ کو خود لازم کرتی ہے بغیر قاضی کی قضاء کے،ا سی لئے یہ اقرار مجلس قضاء کے بغیر بھی صحیح ہوتا ہے او فقہاء نے نص کی ہے اقرار پر قاضی کی کارروائی کو مجازًا قضاء کہا جاتا ہے جبکہ شہادت کو قاضی سن کر حکم کو لازم کرتا ہے تو مقرپر گواہی کو پیش کرنا تحصیل حاصل ہے جو کہ باطل ہے بخلاف اس صورت کے جس میں شہادت سے ایسا فائدہ حاصل ہو جو اقرا ر سے نہ ہوتا ہوا اوروہ فائدہ حکم کو متعدی بنانا ہے کیونکہ اقرا ر ناقص حجت ہے(ت) |
یہاں تك کہ بعد شہادت اگر مدعا علیہ اقرار کردے تو حاکم بربنائے اقرار حکم کرے گا نہ کہ بر بنائے شہادت۔بحرالرائق میں ہے:
|
لو برھن المدعی ثم اقرالمدعی علیہ بالملك لہ یقضی لہ باقرار لاببینۃ اذ البینۃ انما تقبل علی المنکر لا علی المقرانتہی [2]اقول: ووجہہ ظاہر لما قدمنالانہ لما اقرقبل القضاء لزم الحق من دون الزام فلم یبق مساغ لالزام والقضاء بالشہادۃ الزام۔
|
جب مدعی گواہی پیش کرچکا ہو اور اس کے بعد مدعاعلیہ مدعی کی ملکیت کا اقرار کرے تو قاضی اقرار کی بناء پر فیصلہ دے گا کیونکہ گواہی صرف منکر کے خلاف قبول کی جاتی ہے اقرار پر نہیں اھ ۔اقول:(میں کہتا ہوں)اس کی وجہ ظاہر ہے جس کو ہم نے بیان کیا ہے کہ جب قضاء سے قبل اقرار کردے گا تو حق خود بغیر الزام کے لازم ہوجائے گا تو اقرار کے بعد قاضی کی طرف سے لازم کرنے کا جواز نہیں رہتا جبکہ شہادت کی بنا پر فیصلہ الزام ہوتا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع