30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسکے دعوٰی کے مطابق گزری تو بحال استجماع شرائط معروفہ ضرور واجب القبول ہے،
|
لانھا نورت دعویھا بالبینۃ والبینۃ کا سمھا مبینۃ والثابت بشہادۃ عدلین کالثابت بمشاھدۃ العین۔ |
کیونکہ بیوی نے اپنا دعوٰی گواہوں سے واضح کردیا،اور بینہ اپنے نام کی طرح روشن کرنے والا ہوتا ہے اور دو گواہوں عادلوں کی شہادت سے ثابت شدہ چیز ایسے ہے جیسے آنکھ کے مشاہدہ سے ثابت ہوتی ہے۔(ت) |
اور اگر مہر مثل کے برابر یااس سے کم ہے کجب بھی شہادت مفید و مقبول ہے اگرچہ عورت اس صورت میں صرف مدعا علیہا ہے کہ اگر گواہ نہ دیتی اسے حلف کرنا پڑتا اور ایسی جگہ حلف سے بچنے کے لئے مدعا علیہ کے گواہ مسموع ہیں،درر الاحکام باب المھر میں ہے:
|
ان اقامت بینۃ قبلت وان اقامھا الزوج قبلت ایضالان البینۃ تقبل لرد الیمین کما اذا اقامہ المودع بینۃ علی رد الودیعۃ الی المالك تقبل[1]۔ |
اگر بیوی نے گواہی پیش کردی تو مقبول ہوگی اگر خاوند نے پیش کی تو وہ بھی قبول ہوگی کیونکہ قسم کو رد کرنے کے لئے گواہی مقبول ہوگی ہے جیسے امین امانت مالك کو واپس کرنے پر شہادت پیش کرے تو قبول کی جائیگی۔(ت) |
بلکہ اگر مہر مثل معلوم نہ ہو اور شوہر اس مقدار کو مہر مثل نہ مانے توعورت کو آپ ہی گواہ دینے کی حاجت ہوئی کہ اتنا مہر تھا یہ وہی شہادت ہے جو اس سے شرع طلب فرماتی تو عدقبول کی وجہ کیا ہے یا یہ گواہ دیتی کہ اس کا مہر مثل اس قدر یا اس سے زائد ہے،پھر اسے حلف کرنا پڑتا کہ اس قدر مہر مقر ہوا تھا اس شہادت نے اس شہادت اور حلف دونوں سے غنی کردیا،بہر حال مفید و واجب القبول ہوئی، فتاوٰی امام قاضی خاں وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
ھذااذاکان القاضی یعرف مقدار مھر مثلھا فان کان لایعرف یأمرامناءہ بالسوال ممن یعلم او یکلفہا اقامۃ البینۃ علی ماتدعی[2]۔ |
یہ اس صور ت میں جب قاضی مہر مثل کی مقدار جانتا ہو تو اگر اسے معلوم نہ ہو چاہئے کہ وہ اپنے قابل اعتماد عملہ کو کہے کہ وہ معلومات والوں کو پوچھیں یا قاضی عورت کو پابند کرے کہ وہ اپنے مہر مثل کے دعوٰی کو ثابت کرنے کےلئے گواہ پیش کرے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع