30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضرر نابالغان کا اندیشہ ہے اور نانی امکینہ مصلحہ مشفقہ ہے تو وہی باپ داداسے احق ہے ورنہ قاضی شرع جس کو مناسب جانے۔
جامع احکام الصغار میں ہے:
|
ماتت عن زوج واولاد صغار وعلی الزوج المھر فانکر ینصب القاضی وصیا فیثبت علیہ المھر ویؤخذ منہ وید فع الی الوصی فانہ بانکارہ تظہر خیانتہ وعند ظہور الخیانۃ یکون للقاضی ولایۃ دفع مال الصغیرہ الی وصی غیرہ[1]۔ |
بیوی نے خاوند اور نابالغ بچے وارث چھوڑے او خاوند کے ذمہ مہرباقی ہے اور خاوند انکار کرتا ہے تو قاضی کسی کو وصی مقررکے جو مہر کو ثابت کرکے وصول کرے کیونکہ مہر کا انکار کرکے خاوند نے خیانت کردی جبکہ خیاسنت کے ظہور پر قاضی کو مال وصول کرکے کسی وصی کو دینے کا اکتیار مل جاتا ہے۔ (ت) |
اسی عبارت سے واضح ہوا کہ اگر قاضی کے نزدیك ثابت ہوجائے کہ مہر آتا تھا اور زید م،نکر کہوا تو نہ فقط اس مقدمہ یا مہر کے بارہ میں بلکہ تمام اموال نابالغان سے زید کی ولایت اٹھادی جائےگی لظہور خیانتہ وانعدام صیانتہ فخرج عن امانتہ(خیانت ظاہر ہونے اور حفاظ ت معدوم ہوجانے پر امانت سے محروم ہوگیا۔ت)اور جملہ اموال نابالگان نانی مصلحہ امینہ کو سپر د کئے جائیں گے یا جورائے قاضی میں اصلح وانسب ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۰۷: ازریاست رامپور محلہ گھیر شرف الدین خاں متصل فیل خانہ کہنہ مسئولہ غلام جعفر خان صاحب ۱۸/محرم الحرام۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ مدخولہ بہا کو طلاق مغلظہ دی بعد ازاں منکوحہ زید بدیں بیان دعویدار ہوئی کہ بوقت عقد نکاح مبلغ سوالاکھ روپیہ اور پچیس اشرفیاں محمد شاہی تعداد دین مہر مقرر ہوئے تھے اور یہ کل دین مہر بذمہ زید اس وقت تك واجب الادا ہے بناء بریں میرا کل دین مہر زید سے دلایاجائے زید مدعا علیہ مجیب ہوا کہ تعداد دین مہر یاد نہیں کہ بوقت عقد نکاح کس قدر مسمی ہوا تھا مگر نکاح ہو اور مدعیہ نے کل دین مہر یا فتنی اپنا بزمانہ حلالت مدعا علیہ اﷲ کے واسطے معاف وابراکردیا مدعیہ نے چندع کس گواہ پیش کئے اور سب نے بیان کیاکہ بوقت عقد نکاح سوالاکھ روپیہ اور پچیس اشرفیاں محمد شاہی دین مہر کے مقرر ہوئے تھے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع