دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

سے بیان کیجئے روز حساب اجردئے جاؤ گے۔ت)

الجواب:

صورت مستفسرہ میں بکر دعوٰی زید یعنی غلہ لے لینے کا مقر اور اپنے قرضہ کا مدعی ہے یہاں نہ زید کے ذمہ کوئی ثبوت دینا رہا نہ بکر پرحلف آسکتا ہے،

لانہ مقر و مدع وکلاھما لاحلف علہما واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

کیونکہ یہ اقرار کرنے یا دعوٰی کرنے والا ہے جبکہ ان دونوں پر قسم نہیں ہے واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)

مسئلہ۱۰۴:                              از قصبہ شاہ آباد ضلع ریاست رامپور مرسلہ قمر علی خاں عرف چند اخاں           ۱۸/ربیع الاول ۱۳۳۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید و عمرو وبکر نے چند دیہات سرکاری اجارہ پر لئے بعد کو باہم شرکاء میں تقسیم دیہات آپس میں ہوگئی جس کے حصہ میں جو دیہہ آیا وہ اس کی ادائے جمع سرکاری کا ذمہ دار رہا اقرار نامہ تقسیم لکھ کر تصدیق ہوگئی،اس اقرار نامہ میں زید نے یہ لکھا کہ میں ایك ہزار روپے کمی قرعہ یعنی توفیر کے بکر کو باقساط ادا کروں گا،اب بکر اس ایك ہزار روپے کا دعویدار ہے،زید عذر کرتا ہے کہ ایك رقم مبہم کا مجھ سے اقرار کرالیا ہے ہر شخص اپنے حصہ کے دیہات پر قابض ہے،یہ ہزار مجھ پر کیسے چاہئیں،جو دیہات مدعی کےلئے نامزد ہوئے وہ بقبضہ مدعی ہیں بعد تقسیم میرے قبضہ میں نہ آئے نہ ان کی توفیر مجھے ملی ان کی توفیر بکر مدعی پاتا ہے لہذازر توفیر بذمہ مدعا علیہ کیسے چاہئے،دریافت طلب یہ امر ہے کہ شرعًا ایسا اقرار مقر پرلازم الوفاء ہے یانہیں؟ نقل اقرارنامہ ہمرشتہ سوال ہے۔

الجواب:

ملاحظہ اقرارنامہ وبیان سائل سے واضح ہوا کہ یہ دیہات ریاست سے ان تین شخصوں نے مستاجرانہ لئے تھے ریاست نے زر منافع ۱۵ ہزار پیشگی ان سے لیا اس میں سے قریب نصف زید نے دےدیا اور بکر نے کہ ہندو ہے کچھ نہ دیا مگر ریاست زر مستاجری پر ضمانت لیتی ہے یہ کفالت تنہا جائداد بکر سے ہوئی لہذا اسے شریك کیا گیا وقت تقسیم)/ کا حصہ زید کا قرار پایا ار ۴ /۔ ۴/ کا باقی شریکوں کا۔جو دیہات بکر کو دئے گئے ان کی چونی میں کہ بکر کو ملتی بقدر ایك ہزار روپے کمی تھی لہذا زید نے یہ اقرار نامہ لکھ دیا،یہ نہ کوئی عقد شرعی ہے نہ اقرار شرعی نہ بکر کا زید پر کچھ آتا ہے نہ زید کہتا ہے کہ اس کا مجھ پر اتنا آتا ہے نہ کسی ثالث کا دین کہ بکر پر آتا ہو زید ا سکی کفالت کرتا ہے محض ایك مہمل تحریر ہے جس کا حاصل ایك وعدہ بے معنی سے زائد نہیں ایسے وعدہ کی وفا پر جبر نہیں ہوسکتا نہ بکر کو اصلًا مطالبہ کا استحقاق ہے۔ ہندیہ واشباہ


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن