30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حق لہ علی اٰخر رشوۃ وان بذل لدفع الظلم عن نفسہ وما لہ لایکون رشوۃ اھ [1] والمسألۃ تحتاج الٰی زیادۃ تقریر وتحریر وتنقیح وتنقیر لاتفرغ لہ الاٰن وباﷲ التوفیق۔ |
مال خرچ کرے تو رشوت ہے اور اگر اپنے پر ہونے والے ظلم یا اپنے مال پر ناجائز دخل کو ختم کرنے کے لئے مال خرچ کرے تو یہ رشوت نہ ہوگی اھ،اور یہ مسئلہ تقریر،چھان بین، تنقیح اور تحقیق کوچاہتا ہے جس کی فی الحال فرصت نہیں۔وبا ﷲ التوفیق(ت) |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لعن اﷲ الراشی والمرتشی والرائش الذی یمشی بینھما [2]۔رواہ الامام احمد عن ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
اﷲ کی لعنت رشوت دینے والے اور لینے والے اور ان کے دلال پر۔اسے امام احمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا(ت)قاضی و شاہد کا مسئلہ جواب ششم و ہفتم میں گزرا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ۱۰۲: از رامپور چوك حیدر علی خاں مرسلہ محمد ایاز صاحب ٹھیکیدار ۱/رمضان ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دعوٰی زر قرضہ اپنے کا بنام بکر دائر کیا حاکم نے ڈگری زر قرضہ بنام بکر صادر فرمایا مگر اپنی تجویز میں قسط بندی کردی،دریافت طلب یہ امر ہے کہ شرعًا حاکم کو بدون رضامندی مدعی اختیار قسط بندی کا حاصل ہے یانہیں؟
الجواب:
حاکم کو نہ ہرگز اپنی طرف سے قسط بندی بے رضائے مدعی کردینے کا اختیار نہ اس کی اس قسط بندی کاکوئی اعتبار،بلکہ وہ ایك لغو بات محض ناقابل التفات ہے،حاکم کا فرض ہے کہ جب دعوٰی اس کے نزدیك ثابت ہوجائے فورًا مطابق دعوٰی حکم دے اگر تاخیر کرے گا فاسق و معزول و مستحق تعزیر ہوگا۔
|
الاولٰی لرجاء الصلح بین الاقارب الثانیۃ اذا استھل المدعی کما |
مہلت دینا اقارب میں صلح ہے یا مدعی جب اس کا اظہار کرے،جیسا کہ الاشباہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع