30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وبے اعتبار ہے۔فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
|
اجمعوا انہ اذاارتشی لاینفذ قضاؤہ فیما ارتشی[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
فقہاء نے اجماع کیا ہے کہ قاضی نے جس فیصلہ میں رشوت لی ہے وہ فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
(۵)حلف کا حکم جواب سوال چہارم میں گزرا،اگر شرعًا اس قسم کا خلاف اسے کرنا چاہئے تھا تو اس پر کچھ الزام نہیں اور وہ حاکم وقاضی بنائے جانے میں مخل نہیں اور اگر ناجائز تھا توایسے کو قاضی و حاکم نہ بنایا جائے اور اگر بنایا گیا تو اس کا فیصلہ اب بھی مانا جائے گا اگر مطابق شرع ہو،فتح القدیر میں ہے:
|
ان الفسق لایوجب العزل فولایتہ قائمۃ وقضائہ بحق فلم لاینفذ[2]واﷲتعالٰی اعلم۔ |
قاضی کا فسق موجب عزل نہیں تو اس کی ولایت قائم اور فیصلہ حق ہے تو کیونکر نافذ نہ ہو، واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
(۶)فتوٰی اس پر ہے کہ قاضی وحاکم کا ذاتی علم فیصلہ کے واسطے کافی نہیں،نہ اسے اس پر فیصلہ دیناجائز،اشباہ میں ہے:
|
الفتوی علی عدم العمل بعلم القاضی فی زماننا کما فی جامع الفصولین[3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہمارے زمانہ میں آج فتوٰی یہ ہے کہ قاضی کے علم پر مبنی فیصلہ پر عمل جائز نہیں ہے جیسا کہ جامع الفصولین میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
(۷)رشوت لینا مطلقًا گناہ کبیرہ ہے لینے والا حرامخوار ہے مستحق سخت عذاب نار ہے،دینا اگر بمجبوری اپنے اوپر سے دفع ظلم کو ہو تو حرج نہیں اور اپناآتا وصول کرنے کو ہو تو حرام ہے اور لینے دینے والا دونوں جہنمی ہیں اور دوسرے کا حق دبانے یا اور کسی طرح ظلم کرنے کے لئے دے تو سخت تر حرام اور مستحق اشد غضب وانتقام ہے،
|
فی وصایا الھندیۃ عن فتاوی الامام قاضیخاں ان بذل المال لاستخراج |
ہندیہ کے وصایا میں امام قاضی خاں کے فتاوٰی سے منقول ہے کہ دوسرے پر اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع