30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایك سر پنچ بنائے،پنچ و سر پنچ صاحبان نے دونوں شخصوں سے چار چار ہزار روپیہ جمع کرالیا اور ایك جماعت کثیر اہل اسلام کے رو برو حلف شرعی وخدا و رسول کو درمیان و کلام مجید درمیان کرکے یہ وعدہ ہر دو شخصوں سے کرالیا کہ جو تم دونوں شخصوں میں سے ہمارا فیصلہ کیا ہوا نہ مانے گا ہم اس کا روپیہ ضرور دوسرے کو دے دیں گے ان دونوں شخصوں نے جن کی جائداد کا جھگڑا تھا اس بات کو قبول و منظور کرلیا ارو پختہ عہد و پیمان شرعی کے ساتھ یہ کہہ دیا کہ اگر ہم میں سے جو کوئی فیصلہ کئے ہوئے کو نہ مانے اس کا روپیہ آپ دوسرے کو دینا،ہم کو یہ بات قبول و منظور ہے،اب پنچان وسرپنچ صاحبان نے اپنا فیصلہ کیا ہو ا دونوں شخصوں کو سنایا،ایك نے منظور کرلیا اور ایك نے نہیں منظور کیا،جس نے کہ نہیں منظور کیا اس کا روپیہ حسب وعدہ نیز پنچ یا سر پنچ صاحبان کے دوسرے کو دینا جائز ہے یانہیں؟
(۳)اگر کسی شخص کو پنچ یا سر پنچ کسی فیصلہ کےلیے بنایا جائے تو وہ صرف یکطرفیء شہادت و ثبوت خفیہ پر اپنی تجویز لکھ سکتا ہے یانہیں اورایسی تجویز جائز ہے یانہیں؟
(۴)اگر پنچ سر پنچ نے ایك فریق سےجو بوجہ طمع ناجائز کے ساز و اتفاق کرکے فریق دعوم کے خلاف فیصلہ دیا ہو تو ایسے شخصوں کا فیصلہ کیا ہوا ازروئے شرع جائز ہوگا یاناجائز؟
(۵)اگر کوئی شخص قرآن مجید ہاتھ میں لے کر قسم کھائے اور پھر اس قسم کے خلاف کرے تو ایسا شخص قابل قاضی وحاکم بنانے کے ہے یانہیں اور اس کا فیصلہ مانا جاسکتا ہے یانہیں؟
(۶)حاکم وقاضی کو شہادت لینا باقاعدہ ضرور ہے یانہیں یا صرف اس کا ذاتی علم فیصلہ کرنے کے واسطے جائز ہے یاناجائز؟
(۷)ازروئے شرع شریف کے رشوت لینا کیسا گناہ ہے اور رشوت لینے والا حاکم وقاضی و شاہد معتبر ہے یاغیرمعتبر،اس کا فیصلہ کیا ہوا قابل تسلیم ہے یانہیں؟
الجواب :
(۱)اگر فیصلہ مطابق شرع ہو ہر فریق کو ماننا لازم ہے اور باطل وخلاف شرع ہو تو کسی پر اس کی پابندی نہیں،
|
قال اﷲ تعالٰی " اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ ؕ "[1]۔ |
اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے:حکم صرف اﷲ تعالٰی کا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع