30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴۲)بحمد اﷲتعالٰی آفتاب سے زیادہ روشن ہوا کہ ثالثوں نے جتنی سندوں پر بنائے فیصلہ رکھی سب محض ناکارہ و بے اعتبار ہیں،روئداد مسل مدعیوں کا نسب اصلًا ثابت نہیں کرتی سخت محل افسوس یہ ہے کہ ثالث صاحبوں نے خود یہ سمجھ لیا تھا کہ مسل کے موجودہ کاغذات وشہادات ناکافی ہیں اور بے تحقیقات مزیدکے حقیقت معاملہ سمجھ میں نہیں آسکتی،ملاحظہ ہو رپورٹ ثالثان کاغذنمبر۲۰گزارش ہے کہ سوائے تحقیقات جدید کے مظہران فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں،،یہاں ثالثوں نے روئداد مسل پر فیصلہ کرنے سے صاف صاف استعفا دے دیا یا باوصف اس کے بلا تحقیق جدید فیصلہ کیا اس سے زیادہ عجیب تر یہ ہے کہ صاحب افسر مال خود موقع پر تحقیقات کےلئے تشریف لے گئے اور علاقہ کے تمام سر برآوردہ اشخاص اور چشتیوں کوطلب کیا مگر بے تحیقیقات جدیدکہ اسی کی شرعًا ضرورت تھی معاملہ بربنائے روئداد ناکافی مسل سپرد ثالثان کرادیا۔دیکھو فیصلہ افسر فقرہ نمبر۲۴، میں نہیں کہتا کہ مدعیوں کا اولاد پیر صدر الدین نہ ہونا ثابت ہے غیب کا علم اﷲ عزوجل کو ہے ہاں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ان کا اولاد پیر صدر الدین ہو ثابت نہیں تمام کاغذات و شہادات موجودہ مسل ان کا نسب ثابت کرنے میں عاجز و قاصر ہیں،ان کا دعوٰی نامسموع ہونے کے لئے ثبوت عدم درکار نہیں عدم ثبوت کافی ہے اور وہ بلاشبہہ حاصل،لہذا دعوٰی مدعیان باطل،یہاں اور ابحاث فقہیہ بھی باقی ہیں مگر جس قدر گزارش ہوا ذی انصاف متبع شرع کے لئے اس قدر بہت ہے۔وباﷲ التوفیق،واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۵ تا ۱۰۱: از دولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ رئیس بشیرمحمد خان صاحب ۵شعبان ۱۳۲۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو شخصوں میں زر مہر کا جھگڑا ہے ان دونوں شخصوں نے اہل اسلام کے دو شخصوں کو پنچ اور ایك کو سر پنچ اس جھگڑے کے فیصلے کے واسطے باقاعدہ بنادیا،پنچان و سر پنچ صاحب نے بالاتفاق اپنی اور نیز اپنی جماعت کثیر اہل اسلام پابند صوم وصلٰوۃ سے ایك فیصلہ تجویز کردیا،فیصلہ سنانے کے قبل پنچان و سر پنچ ونیز دیگر شریك رائے اہل اسلام نے ہر دو فریق کو کہ جن کی جانب سے پنچ و سر پنچ بنائے گئے تھے یہ تجویز سنادی کہ جو فیصلہ ہم دو فریق کو سنادیں گے وہ تم دونوں کو بخوشی خاطر قبول و منظور ہوگا یانہیں،اور اس فیصلہ میں خواہ کسی فریق کا کیسا ہی نقصان کثیر ہو وہ برداشت کرنا ہوگا ہر دو فریق نے نہایت رضامندی سے اس تجویز کو قبول اور منظور کا کیا اس کے بعد پنچان و سر پنچ صاحب نے بآواز بلند مجمع کثیر میں اس فیصلہ کو جو باہم نزاعی تھا سنایا ایك فرقہ نے اس کو منظور کرلیا اور ایك فرقہ نے اس کو نامنظور کیا،اب جس فرقہ نے اس کو نامنظور کیا تو ازروئے شرع شریف کے اس معاہدہ کی تکمیل جو بروقت فیصلہ سنانے کے ہر دو فریق سے منظور کرالی تھی اس پر عمل کرنا چاہئے یانہیں؟
(۲)دو شخصوں میں تبادلہ جائداد پر جھگڑا تھا ان دونوں شخصوں نے اس کے فیصلہ کے واسطے دو پنچ اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع