30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بِجَہٰلَۃٍ فَتُصْبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیۡنَ ﴿۶﴾ "[1] |
نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔(ت) |
نہ کہ کفار والعیاذ باﷲ العزیز الغفار۔
(۴۰)صاحب افسر مال فقرہ نمبر۸ میں اس شہادت مدعیان کو متواتر حقیقی بناتے ہیں کہ"یہ شہادت تو اتر تك پہنچ چکی ہے جس کے خلاف ہونے کا احتمال نہیں"اور عجب یہ کہ مدعیوں کے تیس گواہ کے مقابل مدعا علیہ کے پینتالیس گواہوں کو لفظ"چند کس"سے تعبیر فرماتے ہیں جس کی انتہا نو تك ہے یہ مجمل جرح کہ وہ یا اجیرہیں یا اس فریق کے جتھے والے،ہر طرف کے گواہوں پر ہوسکتی ہے جو ان میں معزز ہوئے ان پر طرفداری اور باقیوں کو اجورہ داری کا الزام لگا دینا کیا دشوار ہے،ان الزامات کی راہ تو شرع مطہر نے گواہوں میں عادل ہونے کی شرط لگا کر بند فرمائی تھی جب یہ شرط اٹھ گئی بلکہ گواہ کے مسلمان ہونے کی بھی قید نہ رہی تو ہر گونہ الزام آسان ہے جس میں دونوں فریق کی حالت یکساں ہے بلکہ اس نوٹ کی بناء پر جو صاحب افسر مال نے اپنے آخر فیصلہ میں دیا جس میں مدعیوں کو اخلاقًا و عادۃً مدعاعلیہ سے بہت بہتر بتایا اور مدعا علیہ کو چلباز کمینہ کا آدمی شریر وغیرہا الفاط سخیف،سے یاد فرمایا احتمال طرفداری گواہان مدعیان کی طرف زیادہ قائم ہوتا ہے ظاہر ہے کہ خوش اخلاق و نکوسیر آدمی کا جتھا بھاری ہوتا ہے،مکار شریر چالباز سے لوگ نفرت کرتے ہیں اگرچہ لطافت علی صاحب تحصیلدار نے جو تحقیقات موقع لکھی وہ اس کا عکس ظاہر کرتے ہیں اور عمزز خاندان چشتیاں کو مدعیوں سے نفرت بتاتے ہیں بہر حال یہ زائد وخارج از بحث باتیں ہیں،کلام اس میں ہے کہ وہ تواتر جس میں خلاف کا احتمال بھی نہ رہے اس کے یہ معنی نہیں جسمیں فریقین کے انتخاب کوکوئی دخل ہو ہر فریق اپنی مرضی کے گواہ چھانٹ چھانٹ کر اسم نویسی کرائے یہ تیس بتائے وہ پینتالیس لے آئے بلکہ تواتر کے یہ معنی ہیں کہ وہاں کے تمام لوگ چھوٹے بڑے عالم جاہل سب اس امر سے واقف ہوں،عام لوگ یك زبان و متفق اللسان ایك ہی بات کہیں۔فتاوٰی عالمگیری جلد ۳ ص۱۵۲ میں اس کے معنی یہ لکھے ہیں کہ:
|
ان تاتی العامۃ وتشھد بذٰلك فیؤخذ بشہادتھم کذافی الذخیرۃ[2]۔ |
اگر عام لوگ یہی بات کہیں اور یہی شہادت دیں تو یہ شہادت قبول کرلی جائے گی جیسا کہ ذخیرہ میں ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع