30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا اس کہنے سے قسم ہوجاتی ہے یا جھوٹ سے باز رہ سکتا ہے۔
(۳۹)اور اصل حقیقت امر یہ ہےکہ تعین لفظ اشھد میں جو علتیں توجیہیں بیان میں آئیں از قبیل نکات و لطائف ہیں وہ ایك حکم تعبدی ہے یعنی شرع مطہر نے خاص اسی لفظ کو معین فرمادیا تو اب اس سے تجاوز جائز نہیں، ردالمحتار جلد ۴ص۵۷۳ وبحر الرائق جلد ۷ص۶۰۔۶۱میں ہے:
|
اقتصر علیہ اتباعا للماثور ولایخلو عن معنی التعبد اذلم ینقل غیرہ [1]۔ |
اس نے اس پر اقتصار کیا،منقول و ماثور کی پیروی کرتے ہوئے جبکہ یہ تعبد کے معنی سے خالی نہیں،اور اس کا غیر منقول نہیں۔(ت) |
تو اس کی علت تلاش کرنا اور اس کا دوسری جگہ اجرا چاہنا سرے سے باطل ہوگیا،ان تقریرات سے آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ ہندہ کچہریوں میں جہاں لفط اشھد نہیں کہلواتے اور ان بے معنی الفاظ مذکورہ یا ان کے امثال سے حلف لیتے ہیں وہ زنہار اصول شرع سے مطابقت نہیں کھاسکتا ہے،شیئ اگر اپنی ضد سے مکمل ہوسکتی ہو،دن کی اگر رات سے تکمیل ہوسکتی ہو تو ان الفاط میں اصول شرع کو مکمل سمجھ سکیں،انگریزی وہندی کچہریوں میں مثبت سمجھے ہوئے دعوے اگر شرعًا غیر مثبت ٹھہریں تو کیااستحالہ ہے بلکہ اصول شرع کے اتباع نہ کرنے سے شرعًا ان کا غیر مثبت ہونا خود ہی لازم،نہ یہ کہ ان کو مثبت بنانے کےلئے اصول شرع تبدیل کردئیے جائیں،یہاں کی کچہریوں میں کفار کی گواہیاں مسلمانوں پر عمومًا سنی جاتی ہے اور ان پر فیصلے ہوتے ہیں او روہ دعوے مثبت ٹہرائے جاتے ہیں اسے کون سے اصول شرع سے تطبیق دی جائے گی حالانکہ رب العزت جل وعلا فرماتا ہے:
|
" وَلَنۡ یَّجْعَلَ اللہُ لِلْکٰفِرِیۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ سَبِیۡلًا ﴿۱۴۱﴾٪ "[2]۔ |
اﷲ کافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا۔(ت) |
خو د صاحب افسر اپنے اسی فیصلہ فقرہ نمبر ۱۳ میں فرماتے ہیں:"قبضہ کی باتب ریلا رام پیشکار اور غلام حیدر خاں پیشکار کی شہادت شامل مسل ہے اور ان کی شہادت سے ثابت ہے کہ قبضۃ رہا پس دو معزز راہلکاروں کی شہادت معتبر شہادت ہے ہمارا فرض ہے کہ اس کو قبول کریں اور یقین کے ساتھ قبول کریں"حالانکہ شرع مطہر اسے حرام بتاتی ہے فاسق کی نسبت تو ارشاد ہوا:
|
" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوْمًۢا |
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع