30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لفظۃ الشہادۃ اقوی فی افادۃ تاکید متعلقھا من غیرھا من الالفاظ کا علم واتیقن لما فیہا من اقتضاء معنی المشاھدۃ والمعاینۃ التی مرجعھاالحس[1]۔ |
شہادت کا لفظ اپنے متعلق کی تاکید میں دوسرے ہم معنٰی الفاط کی نسبت اقوی ہے جیسے کہ لفظ،میں جانتا ہوں مجھے یقین ہے،کہ مقابلہ میں،کیونکہ شہادت کا لفظ مشاہدہ اور معاینہ جس کا مرجع حس ہے،کو چاہتا ہے۔(ت) |
بلکہ عالمگیری سے گزرا کہ اشھد بمعنی خبررکن ہے نہ بمعنی قسم۔
(۳۷)یہ بھی ہر گز مسلم نہیں کہ کچہریوں میں حلف کے معنی پورے کرا لئے جاتے ہیں کہیں یہ کہلوایا جاتا ہے سچ کہوں گا خدا میری مدد کرے،کہیں یوں کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر سچ کہوں گا ان الفاط کو یمین سے کچھ تعلق نہیں اور اگر وہی لفظ کہلوائے جائیں جو صاحب افسر مال نے لکھے کہ خدا کی قسم میں سچ کہوں گا تو یہ یمین منعقدہ ہوئی یعنی آئندہ کی نسبت جس کے خلاف کرنے پر پندرہ سیر گیہوں یاتین روزوں میں کام نکل سکتا ہے بخلاف اشھد کہ اس میں یمین غموس ہے کہ سلطنت ہفت اقلیم یا لاکھ روزے بھی اس کا کفارہ نہیں ہوسکتے تو اس میں اس کے معنی کا ادا ہوجانا کیونکر ممکن۔
(۳۸)دوسرالفظ صاحب افسر مال نے یہ لکھا کہ خدا کو حاضر ناظر سمجھ کر شہادت دوں گا یہ بھی ایك وعدہ ہے جو کسی اشھد کے معنی پورے نہیں کرسکتا،علماء تصریح فرماتے ہیں کہ شہادت بلفظ مضارع بمعنی حال لازم ہے درمختارسے ابھی گزرا واخبار للحال[2](حال کی خبر دینا ہے۔ت)ردالمحتار ج ۴ص۵۷۳میں ہے:
|
فلو قال شھدت لایجوز لان الماضی موضوع للاخبار عماوقع فیکون غیر مخبر فی الحال[3]۔ |
اگر اس نے"شھدت"بلفظ ماضی کہا تو ناجائز ہے کیونکہ ماضی گزشتہ واقعہ کی خبر کے لئے وضع کیا گیا ہے تو یہ ماضی،حال کی خبر نہ دے گا۔(ت) |
جب صیغہ ماضی معتبر نہ ہوا جو یمین میں مثل صیغہ حال ہے حلفت باﷲ اور احلف باﷲ کاایك ہی حکم ہے توشہادت دوں گا صیغہ استقبال کیا حیثیت رکھتا ہے جس کا حاصل یہ ہوگاکہ یہ قسم کھاؤں گا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع