30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:
|
امالفظۃ الشہادۃ فلان النصوص نطقت باشتراطہا اذا الامر فیہا بھذہ اللفظۃ ولان فیہا زیادۃ توکید فان قولہ اشھد من الفاظ الیمین(کقولہ اشھد باﷲ)فکان الامتناع عن الکذب بھذہ اللفظۃ اشد [1]۔ |
لفظ شہادت تو اس لئے کہ تمام نصوص نے اسکو شرط کہا ہے کیونکہ شہادت کا حکم اسی لفظ سے بیان ہوا ہے اور اس لئے کہ اس لفظ میں تاکید زیادہ ہے کیونکہ شاہد کا اشھد کہنا،یہ قسم کے الفاط میں سے ہے(جیسے اشھد باﷲ قسم ہے)لہذا اس لفظ میں جھوٹ سے امتناع زیادہ قوی ہے۔(ت) |
فتح القدیر جلد ۶صفحہ ۱۰۰میں ہے:
|
وقد وقع الامر بلفظ الشہادۃ فی قولہ تعالٰی واقیمو الشہادۃ ﷲ وقولہ علیہ الصلوۃ والسلام اذا رأیت مثل الشمس فاشھد فلزم لذلك لفظ الشہادۃ [2]۔ |
اﷲ تعالٰی کے ارشاد اقیمو الشہادۃ(شہادت قائم کرو)او رحضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ارشاد اذ رأ یت مثل الشمس فاشھد (یعنی جب سورج کی مثل دیکھ لے تو شہادت دے)تو اس سے لفظ شہادت لازم ہوا کیونکہ یہاں لفظ شہادت سے حکم دیا گیا ہے۔ (ت) |
فتاوٰی عالمگیریہ جلد ۳ صفحہ۴۵۰میں ہے:
|
واما رکنہا فلفظ اشھد بمعنی الخبردون القسم ھکذا فی التبیین[3]۔ |
لیکن شہادت کا رکن،تو لفظ اشھد بمعنی خبر ہے بمعنی قسم نہیں ہے،تبیین میں یونہی ہے(ت) |
اسی طرح بحرالرائق جلد ہفتم ص۶۱ میں ہے،درمختار وردالمحتار وقرۃ العیون کی عبارتیں فتوائے مولوی عطا محمد صاحب میں گزریں اور خود تکثیر عبارات کی کیا حاجت جبکہ علماء نے قرآن عظیم ہی کا نص اس پر ذکرفرمایا۔
(۳۴)صاحب افسر مال کا فقرہ نمبر۲۵ میں اس ناممکن الجواب اعتراض پر یہ اعتذار پیش کرنا کہ فقہاءنے لفظ اشھد کی شرط تو ضرور لگائی مگر اس کی علت یہی ہے کہ اشھد میں معنی قسم ہیں تو معنی قسم جس لفظ سے پورے کرلئے جائیں شرط حاصل ہو جائے گی سخت عجیب ہے جس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ نماز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع