30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳۲)ثالث صاحبان او صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۹و ۲۱میں یہ تو لکھا کہ صحت نکاح کے لئے دو گواہ کافی ہیں اس قدر سے اعلان ہوجاتا ہے،بیشك ہوجاتا ہے اور ضرور کافی ہیں مگر اس طرف کسی صاحب نے توجہ نہ فرمائی کہ دو گواہوں کے سامنے ہونے کا ثبوت بھی تو درکار ہے یا بلاثبوت رجمًا بالغیب مان لیاجائےگا کیا ان گواہوں نے خود آکر ثالثوں یا صاحب افسر مال کے سامنے شہادت دی،کیا انہوں نے اپنی شہادت پر دو شاہدعدل اپنے نائب کرکے بھیجے اور انہوں نے بمراعات شرائط شرعیہ شہادۃ علی الشہادۃ اد اکی یا کیاہوا کچھ بھی نہ ہو ا دو گواہ ہونے کاثبوت کیا ہے پیر صدر الدین کا اقرار،ان کے اقرار کا ثبوت کا ہے؟ مولوی نورالدین کا بیان،ان کے بیان کاثبوت کیا ہے؟ ایك کاغذ میں کچھ حرف لکھے ہوئے ہیں،اس کاغذ کا ثبوت کیا ہے؟ صرف مدعیوں کا بیان،توحاصل یہ ٹھہراکہ نری مدعیوں کی زبان نکاح خفیہ کی گواہ ہے اور اسی کی بناء پر اسے مانا گیا ہے حالانکہ ؎
باطل ست آنچہ مدعی گوید
(جو کچھ مدعی نے کہا ہے وہ باطل ہے۔ت)
ایسا ثبوت اگر مان لیا جائے تو نرے عرضی دعوٰی ہی پر کیوں نہ مدعیوں کو ڈگری دیا جایا کرے آخر وہ اس میں بھی تو کہا کرتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں ہمارا بیان سچا ہے غرض اس کاغذ کا سند میں نام لینا بھی شرعًا عقلًا عرفًا کسی طرح کوئی معنی نہیں رکھتا۔ الحمدﷲ تمام کاغذی سندوں کے جواب سے فراغ پایا اور واضح ہوگیا کہ ان میں ایك پرچہ بھی قابل استناد نہیں۔اب امر ہفتم کی طرف چلئے۔
سند ہفتم شھادات
(۳۳)شہادتوں پر مولوی عطا محمد صاحب کا اعتراض بہت حق و بجا ہے فی الواقع شر ع مطہر نے حقو ق العباد میں لفظ اشھد یا اس کا ترجمہ کہ گواہی می دہم یا گواہی دیتاہوں رکن شہادت قرار دیا ہے بغیر اس کے ہر گز شہادت متحقق نہیں ہوسکتی،خالی خبر ہوگی جو یہاں اصلًا قابل التفات نہیں،تمام کتب مذہب میں اس کی تصریح ہے،ہدایہ جلد دوم ص۱۰۱میں ہے:
|
ولابد فی ذٰلك کلہ من العدالۃ ولفظۃ الشہادۃ فان لم یذکر الشاھد لفظۃ الشھادۃ وقال اعلم او اتیقن لم تقبل شہادتہ[1]۔ |
ان سب میں عدالت اور لفظ شہادت ضروری ہے اگر گواہ نے لفظ شہادت نہ کہا اورمیں جانتا ہوں یا مجھے یقین ہے کہا تو شہادت مقبول نہ ہوگی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع