30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کا اجرا چاہے دوسرا بلا عذر قبول کرلے باینہمہ بار بار کی تحریکوں کے بعد سولہ سال تك معاملہ ہنوز روز اول رہے یہ اسی امر کی تائید کرتا ہے کہ اگر واقع ہو تو اس قدر ہوگا کہ پیر بدر الدین نے جھگڑا کاٹنے کےلئے علاقہ انگریزی کی تھوڑی جائداد سے چھوٹا حصہ رسمی طور کا جیسا مصالحتوں میں ہوتا ہے،نہ جدی حصہ جیسا برا بر کے بھائیوں کو دیا جاتا ہے مدعیوں کو دینا گوارا کیا،پیر سراج الدین نے بھی اس پر سکوت کیا مگر ریاست کی جائداد نہ کبھی دینی چاہی نہ اس میں مزاحمت ترك کی نہ مدعیوں کے پاس کوئی کافی ثبوت تھا وہ ارادہ کرتے تھے اور بیٹھ رہتے تھے تحصیل منچن آباد میں درخواست دی اور حاضر نہ ہوئے،بقول مدعیان محکمہ بندوبست کی ہدایت ہوئی اور وہاں نہ گئے اس کے بعد تحصیل میں پھر درخواست دی اور پیروی کو نہ آئے یہ سب قرائن ان کے بے اصلی دعوٰی کے ہیں اور کچھ بھی قرینہ نہ ہوتا تو بار ثبوت ان کے ذمہ تھا جس سے وہ آج تك سبکدوش نہ ہوئے بالجملہ اس کاغذ پنجم کی حالت سب سے زیادہ ردی ہے ثبوت میں اس کانام لینا شرع تو شرع عقل عرفی سے بھی میل نہیں رکھتا۔
کاغذ ششم نمبر ۱۱ تحریری نور الدین
(۲۷)نرے کاغذ کی بے اعتباری تو دلائل قاہرہ سے بار بار ہم ثابت کر آئے مگر یہ کاغذ ایك شہادت ہے کوئی فیصلہ نہیں کسی کاغذ محکمہ کی نقل نہیں کوئی تمسك نہیں جن میں کاغذی ثبوت برخالف اصول شرع آجکل قابل توجہ سمجے گئے ہیں جو کسی واقعہ کی شہادت ادا کرنا چاہے وہ ایك پرچہ پر لکھ کر کسی فریق کو دے دے اور فریق اسے محکمہ میں پیش کرے کہ یہ فلاں کا بیان ہے جس کے ساتھ اتنی شہادت بھی نہ ہو کہ فلاں نے ہمارے سامنے یہ کاغذ لکھا یہ دستخط اسی کے ہیں اس نےہمارے سامنے کئے محض فریق کے زبانی بیان پر وہ کاغذ شہادت میں لے لیا جائے ایسا تو شایدقانون و رواج میں بھی نہ ہوگا شرع کا حکم تو پہلے ہی سن چکے کہ بجوئے نخرند۔
(۲۸)صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۹ میں
مولوی نورالدین پیش کردہ مدعا علیہ کو یوں مشکوك ٹھہرایا کہ اس میں اہتمام کیا گیا
ایك روپیہ کے کاغذ پر لکھائی گئی حالانکہ فریق مقدمہ جسے رواجًا اپنی سند سمجھے اس
میں رواجی استحکام کی کوشش کوئی منشاء شك نہیں ہوسکتی شاید اگرسادہ پرچہ لکھا ہوتا
تو اس پر یہ شك ہوتا کہ کچے کاغذ کا کیا اعتبار،مگر انصافًا اگر شك جاتا ہے تو
تحریر پیش کردہ مدعیان زیادہ محل ریب ہے نور الدین کی اپنے دل کی لکھی ہوئی اتنی
ہی بات ہے جو اس نے تحریر اول میں لکھی کہ نکاح میں نے پڑھایا اور یہ دونوں وقت
نکاح موجود تھے اگر اس وقت اس کے ذہن میں یہ ہوتا کہ میرے پڑھائے ہوئے نکاح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع