30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والا ستثناء کجعلتك قاضیا الافی قضیۃ فلان ولا تنظر فی قضیۃ کذا[1]۔(ملخصًا) |
تجھے فلاں ماہ کے شروع سے قاضی بنایا،اور ولایت استثناء کو بھی قبول کرسکتی ہے مثلًا یوں کہہ جائے کہ میں نے تجھے فلاں کیس کے ماسوا میں قاضی بنایا یوں کہ فلاں کیس کو زیر غور نہ لانا۔(ت) |
نیز صفحہ۵۳۱میں ہے:
|
یکون القاضی معزولا عنہا لما علمت ان القضاء یتخصص[2]۔ |
قاضی کی قضاء خاص ہوسکتی ہے اس لئے وہ اس تخصیص کی بناء پر معزول ہوتا ہے(ت) |
درمختار صفحہ ۵۳۹جلد ۴ میں ہے:
|
التحکیم تولیۃ الخصمین حاکما یحکم بینھما[3]۔ |
ثالثی دو فریقوں کا کسی کو حاکم بنانا کہ وہ ان دونوں میں فیصلہ کرے۔(ت) |
یہاں فریقین نے اقرار نامہ ثالث میں یہ قید لگا دی تھی کہ اگر ان کا شرعًا نسب ثابت نہ ہوتو ان کا میراث سے کچھ تعلق نہ ہوگا اور بشرط اولاد صحیح النسب ہونے کے فتوٰی ثالثان ناطق ہوگا جس کا صاف حاصل یہ تھا کہ نسب ثابت نہ ہو تو دربارہ وراثت انہیں حکم کا اختیار نہیں،ثالث چہارم نے کہ ثبوت نسب نہ مانا اور وراثت مال کی نسبت فیصلہ دیا معلوم نہیں یہ کس اختیار سے تھا یہیں سے ظاہر ہوا کہ صاحب افسر مال کا فقرہ نمبر۲۵ میں فیصلہ ثالث چہارم سے یہ استناد کہ اصل مطلب کی بات یعنی وراثت مال انہوں نے بھی مان لی ہے اسی قدر کافی ہے،ایك محض بے اثر چیز سے استناد ہے۔
کاغذ چہارم۴ شجرہ نسب
(۲۲)شجرہ نسب جو منٹگمری سے آیا اس کی نسبت علاوہ ان اعتراضوں کے جو ایسے کاغذات کی نسبت مکرر گزر چکے اور ثابت کردیا گیا کہ وہ شرعًا استناد درکنار التفات کے بھی قابل نہیں یہ شجرہ حاکم کی کسی اپنی تحقیقات پر مبنی نہیں بلکہ اسی صلحنامہ بدر الدین پر اس کی بناء ہے اور ہم دلائل قاہرہ سے ثابت کرآئے کہ وہ اپنی ذاتی نامعتبری کے علاوہ ثبوت نسب کے بارہ میں محض مہمل ہے تو یہ شجرہ کہ اس پر مبنی تھا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع