30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قریب او بعید فھو اولی بالمیراث من المقر لہ لانہ لما لم یثبت نسبہ منہ لایزاحم الوارث المعروف ولا مزاحمۃ اذاکان الوارث احد الزوجین وان لم یکن لہ وارث مزاحم استحق المقر لہ میراثہ لان للمقر ولایۃ التصرف فی مال نفسہ عدم الوارث[1]۔ |
زوجین کے علاوہ معروف وارث موجود ہوں تو مقرلہ کی نسبت وہ معروف وارث وراثت کا زیادہ حقدار ہے کیونکہ جب مقرلہ کا نسب ثابت نہیں ہے تو وہ معروف ورثاء کے مقابل نہیں آسکتا،اور جب زوجین میں سے کوئی ایك دوسرے کا وارث ہوتو وہاں کوئی مزاحمت نہ ہوگی،اور اگر ان مقرلہ کے مقابل کوئی بھی معروف وارث نہ ہوتو پھر مقرلہ مقر کی وراثت کا حقدار ہے کیونکہ مقر کو اپنے مال میں تصرف کی ولایت ہے۔(ت) |
جامع الرموز صفحہ ۶۱۳میں ہے:
|
ولواقر رجل بنسب من غیر ولادقریب بینھما کالاخ والعم والجد وابن الابن لایصح اقرارہ بالنسب[2]۔ |
اگر مقر(اقرار کرنیوالے)نے ولادت کے علاوہ کسی قریبی رشتہ کا اقرار کیا جیسے بھائی،چچا،دادا پوتا ہونے کا۔تو یہ اقرار نسب صحیح نہ ہوگا۔(ت) |
ایضاح شرح اصلاح للعلامۃ ابن کمال پاشا قلمی ص ۴۲۶میں ہے:
|
لایصح لما فیہ من تحمیل النسب علی غیر فلا یرث الاعند عدم وارث معروف قریبا کان او بعیدا[3]۔ |
صحیح اس لئے نہیں کہ اس میں غیر پر نسب ٹھونسنا ہے تو کسی قریب یا بعید معروف وارث کی عدم موجودگی میں ہی مقرلہ وارث ہوسکے گا |
اگر ایك اس کے اقرار سے نسب ثابت ہوجاتا تو وارث قوی کا ضعیف تر وارث سے محرورم کردینا کیا معنی رکھتا بلکہ واجب ہوتا کہ اس سے نیچے درجے کے جتنے ورثاء ہوں سب اس کے آگے محروم ہوں لیکن ایسا قطعًا نہیں تو ثابت ہوا کہ نسب ثابت نہ ہوا۔
(۲۱)ایسے نسب کا اقرار اگرچہ مقر کے مال پر نافذ ہومگر یہ ایك فقہی فتوٰی ہے اور حکم یا قاضی کو مطلقًا اختیار نہیں ہوتا کہ وہ صورت میں جو حکم مسئلہ پائیں اس پر فیصلہ کردیں ان کا حکم اس حد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع