دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

تامۃ [1]اھ۔

کے بغیر پایہ ثبوت کو نہ پہنچے گا اھ(ت)

دیکھو کیسی صاف تصریحیں ہیں کہ ایسی جملہ تحریرات نرے کاغذ ہیں جن میں سیاہی سے نقش بنے ہوئے ہیں اور وہ شرع میں حجت ہونا درکنار اصلًا التفات کے قابل نہیں۔

(۱۵)دو اوین قضاۃ یعنی دفتر حکام لیجے توہم نمبر۸،۹میں ردالمحتار و ہدایہ و فتح القدیر وخیریہ سے بیان کر آئے کہ دفتر حکام وہی معتبر ہے جو خاص ان کی حفاظت میں ان کے مہر و نشان کے نیچے ہو اور یہ کہ آج کل کے محافظ دفتر ی مسلمانوں کے ساتھ بھی خاص نہیں نہ کہ ثقہ عادل کے ساتھ اور نہ کہ جو نقل فریق کے ہاتھ میں ہو ہر گز قابل اعتماد نہیں۔

(۱۶)نمبر۸ میں یہ بھی گزرا کہ دفتر حکام کا اعتبار بھی بضرورت ان مقدمات میں ہے جن کو زمانہ دراز گزرا اوران پر ثبوت شرعی نہیں مل سکتا جہاں کا معاملہ تازہ ہے حاکم خود اپنے دفتر پر کارروائی نہ کرے گا بلکہ انہیں طرق شرعیہ بینہ و اقرار ونکول کی طرف رجوع ضروری ہوگی اس پر ردالمحتار کی عبارت گزری، نیز اسی میں ہے:

لا بد من تقییدہ بتقادم العھد کما قلنا توفیقا بین کلامھم[2]۔

قدیم زمانہ کی قید ضروری ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے فقہاء کرام کے کلام میں تطبیق دیتے ہوئے۔(ت)

(۱۷)خود صاحب افسر مال نے ان کاغذات کا بہت اچھا فیصلہ کردیا کہ انہیں کتاب القاضی الی القاضی کے باب سے سمجھا جائے واقعی کچہری سے آئی ہوئی نقلیں اگر محمول ہوسکتی ہیں تو اسی پر اور تمام کتب مذہب کا اتفاق ہے کہ کتاب القاضی الی القاضی بے شہادت عادلہ کاملہ ہر گز معتبر نہیں اگرچہ اس پر قاضی کے دستخط اور دارالقضاء کی مہر بھی ہو،اس پر عبارات کتب نمبر۱۱میں گزریں۔

(۱۸)بلکہ انصافًا صلحنامہ کی عبارت کتاب القاضی الی القاضی کی حد تك پہنچ ہی نہیں سکتی،شہادت ہونا نہ ہونا بالائے طاق،صلحنامہ نہ حاکم نے خود لکھا،نہ اسکے سامنے لکھا گیا،نہ مسل میں یہی بیان ہے کہ پیر بدر الدین نے حاکم کے سامنے اس کے لکھنے یا اس پر دستخط کرنے سے اقرار کیا بلکہ حاکم کے سامنے استفسار پر جواس کابیان ہو نا ذکر کیا جاتا ہے اور جس پر فریق کی تصدیق بھی موجود ہے وہ بیان تحریر صلحنامہ سے قاصر ہے صلحنامہ میں کل جائداد ریاست وانگریزی کی نسبت تصفیہ ہونا مذکور ہے اور بیان استفسار میں صرف جائداد وعلاقہ انگریزی ذکر ہے جسے شبہ کیا جاسکتا ہے کہ پیر بدر الدین نے قطع نزاع و رفع فساد


 

 



[1] الجوہرۃ النیرۃ کتاب آداب القاضی مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۳۴۵

[2] ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۰۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن