30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دریافت کیاگیا اور ان سے جن کو شرعی فیصلہ کے لئے مقدمہ سپرد ہوا اور جن سے فریقین نے صاف کہہ دیا کہ قانونی رواجی باتیں چھوڑ دی گئیں محض احکام شرعیہ سے فیصلہ کرو تاہم ان صاحبوں نے توجہ نہ فرمائی اور اپنے فتوٰی اور اپنے فیصلہ میں ایسی چیز معتبر مانی جو شرعًا محض بے بنیاد ہے ہم نمبر۸ میں فتاوٰی قاضی خاں و فتاوٰی خیریہ واشباہ والنظائر سے لکھ آئے کہ قاضی صرف تین طور پر حکم دے سکتا ہے یا تو گواہان شرعی قائم ہوں یا مدعا علیہ دعوٰی تسلیم کرلے یا اس پر حلف رکھاجائے اور وہ قسم سے انکار کردے ان کے سوا نرا کاغذ کوئی چیز نہیں،نہ اس پر عمل ہوسکے۔نیز فتاوٰی خیریہ جلد ۲صر ۱۱میں ہے:
|
المقرعند علماء الحنفیۃ انہ لااعتبار بمجرد الخط ولا التفات الیہ اذحجج الشرع ثلاثۃ وھی البینۃ اوالاقرار والنکول کماصرح بہ فی اقرارالخانیۃ فلا اعتبار بمجرد المحضر المذکور ولا التفات الیہ الااذا ثبت مضمونہ بالوجہ الشرعی اعنی باحدی الحجج الشرعیۃ المشار الیہا[1]۔ |
علماء احناف کے ہاں طے شدہ ہے کہ محض خط قابل التفات ہے اور نہ ہی قابل اعتبار ہے کیونکہ شرعی دلائل صرف تین ہیں:گواہی،اقرار اور قسم سے انکار،جیسا کہ خانیہ نے اقرار کی بحث میں تصریح کی ہے لہذا محضر نامہ مذکور قابل اعتبار اور قابل التفات نہ ہوگا سوائے اس کے کہ اس کا مضمون شرعی طریقہ یعنی مذکور شرعی دلائل سے ثابت ہوجائے(ت) |
نیز اسی کے صفحہ ۲۲جلد ۲ میں ہے:
|
ابرز کتاب من السجل فوجد فیہ کذا و کذا ولیس الموجود فیہ سوی خط فی ورق لیس من حجج الشرعی فی شیئ[2] (ملتقطا) |
قاضی نے پہلے ریکارڈ میں سے چٹھی نکالی اس میں کوئی مضمون لکھا ورق پایا تو وہ شرعی دلیل کے بغیر حجت نہ بنے گا۔ (ملتقطا)۔(ت) |
جوہرہ نیرہ ج ۳ص ۲۴۵ میں ہے:
|
ولا یقبل الکتاب الابشہادۃ رجلین او رجل وامرأتین لان الکتاب یشبہ الکتاب فلا یثبت الا بحجۃ |
کوئی مکتوب دو مردوں یا ایك مرد اور دو عورتوں کی شہادت کے بغیر مقبول نہ ہوگا کیونکہ مکتوب دوسرے مکتوب کے مشابہ ہوتا ہے لہذا شرعی حجت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع