30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۳)احمد شاہ کا اس کتاب پر اعتراض نہ کرنا جس سے صاحب افسر مال نے فقرہ نمبر۲۵ میں استناد کیا ہے بالبداہۃ اس بناء پر نہیں کہ وہ اپنے علم ویقین سے جانتا ہے کہ پیر صدر الدین نے یہ تحریر لکھی یا اس پر مہر کی وہ تحریر احمد شاہ کی ولادت سے بھی پہلے کی ہے اس کا سکوت اس عام غلطی کی بناء پر ہے جو آج کل لوگوں میں پھیلی ہوئی ہے کہ ایسے کاغذات کو جو کچہریوں سے بے شرائط کتاب القاضی الی القاضی آتے ہیں رواجًا وقانونًا مستند سمجھے جاتے ہیں اس کے ذہن میں بھی وہی رواج قانون تھا یہ شرعی مسئلہ کہ فتوٰی دینے والے عالموں اور فیصلہ کرنے والے حاکموں پر بھی مخفی رہا،احمد شاہ اسے کیونکر جان سکتاتھا بلکہ اگر اسے معلوم بھی ہوتا جب بھی وہ کچہری میں ایسے اعتراض کا موقع نہ پاتا کہ قانونی بات کی مخالفت پر کیونکر کھڑا ہوسکتا تھا اب کہ بالاتفاق فریقین تمام رواجی وقانونی باتیں ترك کردی گئیں اور معاملہ شریعت مطہرہ کے سپرد ہوا وہ مبنی جس کی بناء پر احمد شاہ معترض نہ ہوا تھا زائل و باطل ہوگیا یہ تو اعتراض سے اس کا سکوت ہے اگر وہ اسی عام غلط فہمی پر بنا کرکے اس کاغذ کے مستند ہونے کی تصریح بھی کردیتا جب بھی وہ اقرار کہ بنائے باطل پر مبنی تھا شرعًا باطل ہوتا،جامع الفصولین واشباہ والنظائر صفحہ ۱۱۹ میں ہے:
|
اقر بالطلاق بناء علی ما افتی بہ المفتی ثم تبین عدم الوقوع فانہ لایقع[1]۔ |
کسی شخص نے مفتی کے فتوٰی کی بناء پر طلاق کا اقرار کیا پھر واضح ہوا کہ طلاق کا وقوع نہیں ہوا تو طلاق واقع نہ ہوگی۔(ت) |
یہ بحث یادرکھنے کی ہے کہ اور کاغذات کی نسبت بھی اگر احمد شاہ کے عدم اعتراض سے استناد ہو تو سب کا یہی جواب شافی و کافی ہے۔
کاغذ سوم صلحنامہ پیر بدر الدین
(۱۴)یہ کاغذمدعیوں کا سب سے زیادہ مابہ الاستناد ہے ہر محکمہ میں اپنے دعوٰی کی بناء اسی پر رکھی ہے اورعمومًا فیصلہ کرنے والوں نے بھی اسے کوئی بڑی چیز سمجھا یہاں تك کہ اگر خلاف بھی کیا تو نہ بربنائے اعتباری بلکہ اور وجوہ سے،اس سب کا منشاوہی ہے کہ آج کل ہندیوں کے ذہن میں رواج قانون کے باعث قانونی باتیں اصول مسلمہ کے طور پر جمی ہوئی ہیں اگرچہ شرع مطہر میں ان کی کچھ اصل نہ ہو مدعیان و قانونی حکام سے تعجب،عجب تو ان اہل علم سے ہے جن سے شرعی سوال ہوا اورشریعت کا حکم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع