30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قدیز ور اذ الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم فلایثبت الابحجۃ تامۃ[1]۔ |
کیونکہ چٹھی میں جعل سازی ہوسکتی ہے بوجہ اس کے کہ خط خط کے اور مہر مہر کے مشابہ ہوتا ہے لہذا چٹھی کامل شہادت کے بغیر پایہ ثبوت کو نہ پہنچے گی۔(ت) |
ظاہر ہے کہ یہ کاغذات اصلًا ان شرائط پر نہیں آتے تو ان کا رد واجب ہوا اور ان کا قبول کرنا محض خلاف شریعت،نمبر۱ کاغذات کے متعلق یہ بیان ہم نے ان چار نمبروں میں کئے ان تمام کاغذات کے رد کو کافی ووافی ہیں جن سے ثالثوں نے استناد کیا ہے لہذا ہمیں آئندہ کاغذات کے متعلق زیادہ بحث کی ضرورت نہ ہوگی ان چار نمبروں کے بیانات سمجھ لینے والا بے تکلف جان سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی کاغذ اس پیمانے پر نہیں جو شریعت مطہرہ میں درکار ہے تو وہ کاغذ بادی سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔میں نہیں کہتا کہ مدعیوں کی طرف کے جو کاغذ ہیں انہیں کی یہ حالت ہے بلکہ فریقین کے کاغذی ثبوت کی یہی کیفیت ہے کہ شریعت مطہرہ کے دربار میں وہ ایك کاغذی ناؤ سے زیادہ نہیں،ہم اگر اپنے بیان میں کسی کاغذ سے استناد کریں گے تو وہ الزامًا ہوگا نہ کہ تحقیقًا۔
(۱۲)مجھے رواج عام کی نسبت زیادہ تحریر کی ضرورت نہیں البتہ صرف افسر مال کے اس فقرہ نمبر۱۲ کے متعلق کہ"اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ کل مالکان کی موجودگی میں یہ واقعہ قلمبند ہوا اور اﷲ بخش و الٰہی بخش کا صحیح النسب ہونا امر محقق تھا اور کسی کو شك وشبہ نہیں تھا یہاں تك کہ یہ ایك رواج عام مثال قرار دئے گئے جس پر آئندہ فیصلجات خاندان کی وراثت کا مدار ہے،لطافت علی صاحب تحصیلدار کی ایك تحقیقات کا بیان کردینامناسب ہے وہ اپنے فیصلہ ۲۷/ستمبر ۱۹۲۱ء فقہر پنجم میں لکھتے ہیں کہ عام تحقیقات اور موقع سے ظاہر ہے کہ بدر الدین کو خصوصًا اور اقوام چشتی گردونواح کو عمومًا بلحاظ اپنی شرافت کے یہ امر نہایت ناگوار ہے کہ پیرنی زادگان یعنی عذر داران کو جائداد میں حصہ دیا جائے"۔اس تحقیقات کو بیان موصوف صاحب افسر مال سے ملا کر دیکھنا اس خیال کی ایك واضح راہ دیتا ہے کہ مدعیان وہ نہیں جن کی نسبت معززان قوم حصہ دار ہونے پر راضی ہوچکے اور خاندان کے لئے اسے ایك نظیر بناچکے یہ وہی معزز ان قوم تو ہیں جن میں ان کو حصہ دئے جانے پر عام ناراضی ہے تو ضرور ہے کہ وہ مدعیان کو صرف پیرنی زادہ سمجھتے تھے نہ کہ پیر زادہ،اور رواج عام میں اس اولاد پیرنی کی نسبت رضامندی دی گئی ہے جو پیرزادہ یعنی نطفہ پیر صدر الدین سے ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع