30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح ردالمحتار جلد ۴ص۵۸۰ میں ہے۔فتح القدیر جلد ۵ص۱۹ میں ہے:
|
انی اری انہ اذاکان محفوظا ما مو نا علیہ من التغیر کان یکون تحت ختمہ فی خریطتہ المحفوظۃ عندہ ان یترجح العمل بھا بخلاف مااذاکان عند غیرہ لان الخط یشبہ الخط[1]۔ |
میری رائے ہے کہ یہ جب محفوظ اور تغیر سے اطمینان ہو کہ اس کے پاس محفوظ بیگ مہر زدہ میں ہوتو اس پر عمل کو ترجیح ہے بخلاف جبکہ وہ غیر کے پاس ہو،کیونکہ خط دوسرے خط کے مشابہ ہوسکتا ہے(ت) |
(۹)یہیں سے ظاہر ہوا کہ فیصلہ صاحب افسر مال فقرہ نمبر۲۵میں جو اس کاغذ کے اعتبار پر قول شیخ ابو العباس سے استناد کیابجائے خود نہیں شیخ ابو العباس کے کلام میں کلرکوں یعنی کاتبوں محرروں کا ذکر نہیں بلکہ امناء فرمایا ہے اور اس سے مراد قضاۃ ہیں جس پر قبلہ کا لفظ دال ہے یعنی قاضی اپنے سے پہلے امناء کے دفتروں پر عمل کرسکتا ہے جب کہ وہ ان کے پاس محفوظ رہا ہو،ولہذا درمختار میں اس کے بعد خیریہ سے نقل کیا:
|
ان کان للوقف کتاب فی سجل القضاۃ وھو فی ایدیھم اتبع مافیہ استحسانا[2]۔ |
جب وقف کی کتاب قاضی کے ریکارڈ میں ہو اور اس کی نگرانی اور قبضہ میں ہو تو استحسانًا اس کے مندرجات کی اتباع کی جائیگی(ت) |
اور اگر امین سے عام بھی مراد ہو تو دفاتر زمانہ کچھ امنائے شرعیہ ہی کے ہاتھ میں محفوظ نہیں رہتے بلکہ محافظ دفتر وغیر ہم اکثر نا مسلم بھی ہوتے ہیں جو شرعًا کسی طرح امین نہیں ہوسکتے،نہ ان کی حفاظت پر اعتماد،نہ ان کے قول یا فعل پر اعتبار،یہی حالت نقل نویسوں اور قاریوں اور سامعون کی ہے اور جو کوئی کچہریوں کی کارروائی سے آگاہ ہے وہ ایسے کاغذات پر دستخط حکام کی بھی حقیقت جانتا ہے،کارکن لوگ عام ازیں کہ مسلم ہوں یا کافر،ثقہ ہوں یا فاسق،انہوں نے کام کیا اور کاغذات کا ایك انبار حاکموں کے سامنے دستخطوں کے لئے رکھ دیا،حاکم کو ایك اجمالی حالت کے سوا تفصیل پر بھی پوری اطلاع نہیں ہوتی،نہ کہ نقول کے ایك ایك حرف کا خود مقابلہ کرنا یہ تو قطعًا نہیں ہوتا،نہ وہ ایسے متفرقات کی طرف توجہ کی فرصت پاسکتے ہیں پھر دستخط حاکم ہونے نے کیا فائدہ دیا،اب یہیں دیکھئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع