30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دفترہ محفوظا عندہ فلو کانت کتابتہ فیما علیہ فی دفتر خصمہ فالظاہر انہ لا یعمل بہ خلاف لما بحثہ ط لان الخط مما یزور وکذا لوکان لہ کاتب والد فاتر عند الکاتب لاحتمال کون الکاتب کتب ذٰلك علیہ بلا علمہ[1]۔ |
پاس محفوظ ہو،تو اگر ایك کے خلاف تحریر ریکارڈ اس کے مخالف کے پاس ہو تو ظاہر یہ ہے کہ اس پر عمل نہ ہوگا۔طحطاوی کی بحث اس کے خلاف ہے کیونکہ خط میں جعلسازی ہوسکتی ہے اور یوں ہی اگر قاضی کا کاتب ہو اور ریکارڈ کاتب کے پاس ہو تو احتمال ہے کہ کاتب نے قاضی کے علم کے بغیر دوسرے کے خلاف لکھ دیا ہو۔(ت) |
فتاوٰی خیریہ ج ۲ص۱۷میں ہے:
|
والخط یعتمد علیہ ولا یعمل بہ ولا یعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضیین لان القاضی لایقضی الابحجۃ وھی البینۃ والاقرار و النکول کمافی الاقرار الخانیۃ[2]۔ |
خط پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے اور گزشتہ قاضیوں کے خط سے لکھا ہوا وقف نامہ قابل عمل نہیں کیونکہ فیصلہ حجت کی بناء پر ہی قاضی کرسکتا ہے اور شرعی حجت صرف گواہی،اقرار اور قسم سے انکار ہے جیسا کہ خانیہ کی بحث اقرار میں ہے(ت) |
بعینہ اسی طرح اشباہ والنظائر صفحہ ۲۰۵ میں ہے،ہدایہ جلد دوم ص۱۰۴میں ہے:
|
انما الخلاف فیما اذاوجد القاضی شہادتہ فی دیوانہ او قضیتہ لان مایکون فی قنطرۃ فھو تحت ختمہ ویومن علیہ من الزیادۃ والنقصان فحصل لہ العلم بذلک، ولا کذٰلك الشہادۃ فی الصك لانہ فی ید غیرہ[3]۔ |
اختلاف صرف اس صورت میں ہے کہ جب قاضی ریکارڈ یا فیصلہ میں کسی شہادت کو پائے اوراگر ریکارڈ قاضی کے خاص مہر والے بکس میں ہوتو کمی بیشی سے محفوظ سمجھا جائے گا تو اس سے قاضی کو علم ہوجائیگا،کسی کاغذ پر لکھی ہوئی شہادت کا معاملہ ایسا نہیں کیونکہ وہ غیر کے تصرف میں ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع