30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاللاستحقاق [1]۔ |
استحقاق کی نہیں۔(ت) |
یعنی ظاہر سے سند لانا مدعا علیہ کو مفید ہوسکتا ہے مدعی کو اصلًا مفید نہیں اور یہاں اﷲ بخش والٰہی بخش مدعی ہیں توظاہر انہیں کیا بکار آمد ہوسکتا ہے اگر کہئے رواج عام کی تاریخ ۱۸۷۲ءاورنکاح کی تاریخ ۱۲۸۶ھ کہ مولوی نورالدین نکاح خوان نے اپنی تحریر میں لکھائی دونوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت تحریر رواج رنگ بھری نکاح پیر صدرالدین میں تھی تو اس کا جواب عنقریب آتا ہے کہ تحریر مولوی نورالدین اصلًا شہادت میں لئے جانے کے قابل نہیں نہ اس پر کوئی التفات ہوسکتا ہے اور یہ امر خود مفتی موصوف کو بھی مسلم ہے۔
(۵)ثانیًا: رواج عام کی عبارت تویہ کہہ رہی ہے کہ وہ عورت جس کی نسبت اقرار تھا رنگ بھری نہ تھی کوئی اور تھی اس میں عورت کو بیوہ لکھاہے اور بیوہ وہ جس کا شوہر مرگیا ہو،رنگ بھری کنچنی تھی پیر صدر الدین سے نکاح کے ہونے تك اسی اپنے پیشہ ناجائز میں تھی ایسی عورت کو بیوہ نہیں کہتے۔حسن اتفاق سے ۱۵/ شعبان معظم ۲۷ روز چہار شنبہ کو فریق دوم شیخ اﷲ بخش بھی منچن آباد سے ہمارے پاس آئے ہم نے اس خیال پر کہ شاید اہل پنجاب میں بیوہ کا کوئی اور محاورہ ہو فریق اول ان کے ہمراہی سے پہلے ہی دریافت کرلیا تھا مزید اطمینان کے لئے ان فریق دوم سے بھی استفسار کیا انہوں نے بھی جواب دیا کہ بیوہ اسی کو کہتے ہیں جس کا پہلا خاوند مرگیا ہو،ہم نے پوچھا تمہاری والدہ کا پیر صدرالدین سے پہلے کسی اور شخص سے نکاح ہوا تھا،کہا کوئی نہیں،تو صاف ظاہر ہوا کہ رواج عام کی تحریر رنگ بھری سے متعلق نہیں،اس کا جواب فریق دوم کو کچھ بن نہ آیا مگر احمد شاہ فریق اول کی طرف اشارہ کرکے کہا یہی بتادے کہ پیر صد رالدین نے اور کسی عورت سے نکاح کیا تھا،اس کا جواب ان کو دے دیا گیا کہ تم مدعی ہوتمہاری دلیل کی تصحیح تمہارے ذمہ ہے مدعا علیہ پر اس کا کوئی بارثبوت نہیں،ہوگئی کوئی عورت بیوہ جس سے پیر صدر الدین نے نکاح کیا اور لاولد مرگئی ہو۔
(۶)فرض کیجئے کہ رواج عام میں رنگ بھری کاصاف نام اور پورا پتہ لکھا ہوتا پھر بھی کیا کام آتا،یہ مطلب تو ہو نہیں سکتا تھا کہ رنگ بھری کی جو اولاد ہو مطلقًا پیر صدر الدین کی وارث ہوگی اگرچہ نطفہ پیر صدر الدین سے نہ ہو،آخر رنگ بھری کا بیٹا اﷲ دتا بھی تو ہے اسے کیوں نہیں وارث
[1] الہدایہ کتاب القضاء فصل فی القضاء بالمواریث مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۴۷،ردالمحتار باب القسامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۰۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع