30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح فتاوٰی عالمگیریہ جلد چہارم ص۵۹میں ہے:اشباہ والنظائر صفحہ ۲۵۴میں ہے الاقرار للمجھول باطل [1]الخ(مجہول شخص کےلئے اقرار باطل ہے الخ۔ت)اس پر ثالث چہارم یعنی مولوی عطا محمد صاحب نے جو یہ خیال کیا کہ"گواس میں نام اﷲ بخش والٰہی بخش نہیں ہے لیکن چونکہ اولاد بحسب الظاہر رنگ بھری وصدر الدین کی بغیر ان دونوں کے اور کوئی نہیں،لہذا ضرورۃ یہی تصور کئے جائیں گے،میں اس کے لئے بھی شرع میں کوئی اصل نہیں پاتا،اولًا: کیا اگر کوئی اقرار کرے کہ ایك شخص ساکن ہندوستان کے ہزار روپے مجھ پر قرض آتے ہیں تو جو کوئی ہندوستانی اس پر دعویدار ہو کر کھڑا ہوگا ہم باور کرلیں گے کہ وہ یہی ہے جسکی نسبت اقرار کیا تھا نہیں بلکہ ضروراسے ثبوت دینا ہوگا اس قدر شدید جہالت درکنار زید اگر کہے خالد کے مجھ پر سو روپے آتے ہیں پھر خالد نامی ایك شخص مدعی ہو کہ میں خالد ہوں میرے روپے آتے ہیں ہر گز اس قدر سے ثبوت دعوٰی نہ ہوگا اور مقر کااس کے حق میں انکار کرنا حلف کے ساتھ مان لیا جائے گا۔وجیز امام کردری پھر ردالمحتار میں جلد دوم صفحہ ۷۵۵ میں ہے:
|
اذا اقر بمال لمسمی فادعی رجل انہ ھو وانکر یصدق بالحلف مالہ علی ھذا المال[2]۔ |
جب ایك نے کسی مسمی شخص کے حق میں مال کا اقرار کیا اور دوسرے نے دعوٰی کیا وہ مسمٰی میں ہوں لیکن اقرار کرنے والا اس کا انکار کرتا ہے تو انکار کی قسم کے ساتھ تصدیق کی جائے گی مدعی کا اس پریہ مال نہیں ہے۔(ت) |
توجب صراحۃً نام لے دینے سے بھی ثبوت نہ ہوگیا کہ ایك نام کے ہزاروں ہوتے ہیں تو اتنی سخت مجہول بات کہ بیوہ پیرنی کیا مفید ثبو ت ہوسکتی ہے اگر کہئے یہاں ثبوت کا پتہ یوں چلتاہے کہ آخررنگ بھری سے پیر صدر الدین نے نکاح کیاہے اور وہ قوم کی پیرنی ہے یوں ہم نے سمجھ لیا وہ عورت یہی ہے،ہم کہیں گے کیا ثبوت ہے کہ تحریر رواج عام کے وقت رنگ بھری نکاح صد رالدین میں تھی اور ہو بھی توغایت درجہ ایك قرینہ ہے جسے مفتی نے خود ظاہر کیا اور ہدایہ وغیر ہ تمام کتابوں میں تصریح ہے کہ:
|
الظاہر یصلح حجۃ للدفع |
ظاہر حال دفاع کی دلیل ہوسکتا ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع