30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہت سخت عجب ہے رواج عام کی عبارت سامنے موجود ہے اس میں نہ مدعیوں کا نام ہے نہ مدعیوں کی ماں کا نام صرف اس قدر ہے کہ"صدر الدین نے ہمراہ عورت بیوہ قوم پیرنی کے نکاح کرلیا ہے اولاد اس کی بعد وفات صاحب جائداد کے مالك ہوگی" اس سے کیاثابت ہوا کہ کون عورت اور کس کی اولاد یہ اقرار اگر ہے تو محض مجہول کے لئے ہے جس کی جہالت سخت فاحشہ ہے بیوہ عورت قوم پیرنی لاکھوں ہیں اور ایسے مجہول کے لئے اقرار بالاتفاق باطل ہے۔ہدایہ جلد دوم صفحہ ۱۶۵میں ہے:
|
جہالۃ المقربہ لایمنع صحۃ الاقرارلان الحق قدیلزمہ مجھولا بان اتلف مالایدری قیمتہ بخلاف الجہالۃ فی المقرلہ لان المجھول لایصح مستحقا[1]۔ |
جس چیز کا اقرار کیا جائے وہ مجہول ہو تو مانع اقرار نہیں کیونکہ حق مجہول ہوتے ہوئے بھی لازم ہوجاتا ہے یوں کہ اقرارکیا کہ چیز تلف کی ہے جس کی قیمت معلوم نہیں بخلاف مقرلہ یعنی جس کے حق میں اقرار کیا ہو کیونکہ مجہول شخص مستحق نہیں بن سکتا۔(ت) |
بحرالرائق جلد ہفتم ص۲۷۲ میں ہے:
|
جھالۃ المقر لہ مانعۃ من صحتہ ان تفاحشت کل واحد من الناس علی کذا[2]۔ |
مقرلہ کی جہالت فاحشہ اقرار کی صحت کے لئے مانع ہے اس میں تمام لوگ شامل ہیں۔(ت) |
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق جلد پنچم ص۴ میں ہے:
|
لوکان المقربہ مجہولا لایمنع صحۃ الاقرار بخلاف الجہالۃ فی المقرلہ سواء تفاحشت اولالان المجہول لایصلح مستحقا ھکذا ذکر شمس الائمۃ وذکر شیخ الاسلام فی مبسوطہ والناطفی فی واقعاتہ انہا اذا تفاحشت لایجوزوان لم تتفاحش جاز[3]۔ |
اگر مقربہ یعنی جس چیز کا اقرار ہو،مجہول ہو تو وہ اقرار کی صحت کےلئے مانع نہیں بخلاف مقرلہ کے خواہ یہ جہالت وسیع ہو یا نہ ہو کیونکہ مجہول شخص مستحق نہیں ہوسکتا،شمس الائمہ نے یوں ذکر کیا ہے جبکہ شیخ الاسلام نے اپنی مبسوط میں اور ناطفی نے اپنی واقعات میں فرمایا کہ اگرجہالت فحش ہو تو مانع ہے اور یہ جہالت کھلی نہ ہو تو اقرار جائز ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع