30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لکھوائے ہیں"سخت عجب ہے اولًا وہ اگر ہے تو صرف بدرالدین کا بیان جس میں اظہار سراج الدین کانام نہ نشان۔
(۲)اس کے کس لفط کس حرف میں بدرالدین نے اﷲ بخش والٰہی بخش کو اپنا بھائی کہا اس نے تو صاف اس کے خلاف یہ بیان کیا کہ وہ دونوں قبل از نکاح پیدا ہوئے ہیں اس سے اتنا بھی نہ کھلا کہ نطفہ پیر صدرالدین سے پیداہوئے۔کنچنیان جو بلا نکاح رکھی جاتی ہیں مقید نہیں ہوتیں کیا خبر ان کی اولاد کس سے ہے،نہ ہر گز اس بیان میں پیر بدر الدین نے معاذاﷲصراحۃً اپنے باپ کو زنا کی طرف نسبت کیا کنچنی کو لے کر چلا جانا گانا ناچ دیکھنے سننے کے لئے بھی ہوسکتا ہے کچھ زنا ہی ضرور نہیں،اور بفرض غلط اگر بدر الدین کی یہی مراد مانی جائے تو بھی ان کے بھائی ہونے کا اقرار کہاں ہوا،ایسی اولا بے نکاح کو شرع اس صاحب نطفہ کی اولاد کب مانتی ہے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
الولد للفراش وللعاھر الحجر[1]۔ |
بچہ اس کا جس کا نکاح ہے اور زانی کیلئے پتھر۔ |
(۳)بالفرض اس میں اگر سراج الدین کا بھی نام ہوتا اور بھائی ماننے کی صریح تصریح بھی جب بھی کیا حجت ہوسکتا ہے کہ یہ نہ سراج الدین کا بیان ہے نہ بدرالدین کا،بلکہ ایك پٹواری کا قول ہے کہ انہوں نے ایسا بیان کیا جس کی عدالت بھی معلوم نہیں،کیا شرع میں کسی کا اقرا رایك شخص واحد مجہول العدالۃ کے بیان سے ثابت ہوسکتا ہے' ہرگز نہیں،
|
قال اﷲ تعالٰی "وَّ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اپنے میں سے دو عادل گواہ بناؤ۔(ت) |
پٹواریوں کی سیکڑوں رپورٹیں اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے خلاف واقع گزرا کرتی ہیں ہر شخص جسے زمین داری سے تعلق رہا ہے اسے اپنے تجربے سے جانتا ہے میں نہیں کہتا کہ عنایت اﷲ نے ایسا کیا مگر تحسین ظن اور چیز ہے اور حجت شرعیہ دوسری چیز۔
کاغذ دوم رواج عام
(۴)رواج کی نسبت ثالثوں کا فرمانا کہ اس میں مدعیوں کو پیر صدر الدین نے وارث لکھا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع