30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثی جب متعدد اشخاص کے سپردکی جائے تو ان کا وہی حکم مسلم وقابل اعتبار ہوگا جو وہ سب باتفاق رائے فیصلہ کریں اور اختلاف پڑے تو ان میں کسی کا حکم قابل لحاظ نہیں ایسے مقامات میں کثرت رائے پر نظر نہیں ہوسکتی جہاں کوئی اختیار متعدد اشخاص کو سپرد کیا گیا ہو مثلًا چند شخصوں کو وکیل کیا تو ان سب کی رائے متفق ہونا ضرور ہے یا متعدد اشخاص کو اپنے مال کا وصی کیا تو جو تصرف ہوگا سب کی مجموعی رائے سے ہوسکے گا یا چند اشخاص کو وقف کا متولی کیا تو اس میں بھی بعض یا اکثر کی رائے سے کچھ نہ ہوسکے گا جب تك سب کی رائے متفق نہ ہو بعینہ یہی حالت ثالثوں کی ہے اور ان سب کی وجہ یہی ہے کہ اختیار دینے والا مجموع کی رائے پر راضی ہوا تھانہ کہ بعض کی۔اشباہ والنظائر صفحہ ۲۵۱میں ہے:
|
الشیئ المفوض الی اثنین لایمبلکہ احدھما کالو کیلین والوصیین والناظرین و القاضیین والحکمین[1]۔ |
جو چیز دو کو تفویض کی جائے ایك واحد مالك نہ ہوگا جیساکہ دو وکیل،دو وصی،دو منتظم دو قاضی اور دو ثالث۔(ت) |
ہدایہ جلد دوم ص ۱۳۲میں ہے:
|
اذاوکل وکیلین فلیس لاحد ھما ان یتصرف فیما وکلا بہ دون الاٰخر وھذا فی تصرف یحتاج فیہ الی الرأی کالبیع والخلع وغیر ذلك لان الموکل رضی برأیھما لابرأی احدھما[2]۔ |
جب کسی نے دو وکیل بنائے تو جس معاملہ میں دونوں وکیل ہیں،ایك وکیل دوسرے کے بغیر اس میں تصرف نہیں کرسکتا،یہ ان امور میں ہے جن میں مشورہ کی ضرورت ہوتی ہے جیسے بیع اور خلع وغیرہ،کیونکہ موکل دونوں کی رائے پر راضی ہے ایك کی رائے پر نہیں(ت) |
اسی کے صفحہ ۵۶۷ میں ہے:
|
الولایۃ ثبتت بالتفویض فیراعی وصف التفویض وھو وصف الاجتماع اذھو شرط مفید[3]۔ |
ولایت تفویض سے ثابت ہوتی ہے لہذا تفویض کے وصف کی رعایت ضروری ہے اور یہ دونوں کی اجتماعی رائے کا وصف ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع