30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درخواست تقرر ثالثان احمد شاہ کی دستخطی ہے کچھ بکار آمد نہیں،احمد شاہ نے عرضی میں فقط یہی بیان نہ کیا کہ مجھ سے جبرًا تقرر ثالثان کرالیا ہے میں رضا مند نہ تھا بلکہ صاف لکھ دیا ہے کہ"سائل بالکل رضامند نہیں جیسا کہ پہلے رضامندنہ تھا"اس کا اس قدر لکھنا منسوخی ثالثی کےلئے کافی ہے پس ثالثی باطل محض ہوگئی اور یہ فیصلہ اصلًا قابل التفات نہیں۔
وجہ دوم:بالفرض اگر ثالثی باقی بھی رہتی تو ملاحظہ مسل سے ظاہر کہ مدعا علیہم میں ایك لڑکا خدابخش نابالغ بھی ہے اور جب کہ فیصلہ بحق مدعیان دیا گیا تو اس کا ضرر اسے بھی پہنچے گا اور ثالثوں کو کوئی اختیار نہیں کہ ایسا فیصلہ دیں جس کا اثر نابالغ پر پڑے۔رد المحتار میں جلد ۴ص۵۴۲ میں ہے:
|
لایصح حکمہ بما فیہ ضرر علی الصغیر بخلاف القاضی [1]۔ |
نابالغ کے خلاف ضرر رساں فیصلہ حکم نہیں دے سکتا بخلاف قاضی کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔(ت) |
اور وجہ اس کی ظاہر کہ ثالثی کا حاصل فریقین کا باہمی ایك صلح کرلینا ہے احمد شاہ کو کیا اختیارکہ ایسی صلح کرے جس سے اس کے نابالغ بھائی کو نقصان پہنچے۔درمختار صفحہ ۳۵۳ میں ہے:
|
(التحکیم)صلح معنی فلا یصح تعلیقہ ولا اضافتہ عند الثانی وعلیہ الفتوی کمافی قضاء الخانیۃ[2]۔ |
تحکیم یعنی کسی کو ثالث بنانا معنیً صلح ہے لہذا اس کی تعلیق واضافت جائز نہیں،یہ امام ثانی یعنی امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك ہے اور اسی پر فتوٰی ہے،جیسا کہ خانیہ کی قضا میں ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قال فی الدرر فانہ تولیۃ صورۃ وصلح معنی اذلا یصار الیہ الابتراضیہما لقطع الخصومۃ بینھما[3]۔ |
درر میں فرمایا:یہ صورتًا تولیت ہے اور معنًا صلح ہے کیونکہ اس سے دونوں فریقوں کی رضامندی سے ان کے جھگڑے کو ختم کرنا مطلوب ہوتا ہے۔(ت) |
وجہ سوم:ہم پہلے کہہ چکے ہیں اور خود فریقین نے تسلیم کیا کہ قانونی ورواجی باتیں سب بالائے طاق رکھی گئیں معاملہ صرف شریعت مطہرہ کے سپرد ہے اور یہی فرض تھا،اب شرع مطہر کا حکم سنئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع