30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وجہ اول: پنچوں کو فیصلہ کا اختیار اس وقت ہوتا ہے کہ ان کے حکم دینے تك فریقین ان کے پنچ ہونے پر راضی رہیں،اگر ایك فریق بھی پنچ کے حکم دینے سے ایك آن پہلے اس کی ثالثی پر ناراضی ظاہر کرے فورًا وہ ثالثی سے نکل جائے گا اور اسے حکم دینے کا کچھ اختیار نہ رہے گا اور حکم دے تو اصلًا نہ سنا جائیگا یہاں تك کہ ہمارے علماء فرماتے ہیں اگر تمام ترتیب و تکمیل مقدمہ کے بعد جب صرف حکم دینے کی دیر رہی تھی ثالث نے ایك فریق سے کہامیرے نزدیك حجت تجھ پر قائم ہوگئی میں تجھ پر حکم دیا چاہتا ہوں اس نے کہا میں تیرے ثالثی سے راضی نہیں،بس یہ کہتے ہی ثالث کو اختیار جاتا رہا اب وہ کچھ حکم نہیں کرسکتا۔درمختار جلد ۴ صفحہ ۵۲۰میں ہے:
|
(ینفرد احدھما بنقضہ)ای التحکیم بعد وقوعہ[1]۔ |
ثالث بننے والے کے فیصلہ کو ایك فریق بھی رد کرسکتا ہے۔ (ت) |
ردالمحتار جلد ۴صفحہ ۵۴۲ میں ہے:
|
لکل منھما عزلہ قبل الحکم[2]۔ |
ثالث کے فیصلہ سے قبل کوئی ایك فریق بھی ثالث کو معزول کرسکتاہے۔(ت) |
فتاوٰی عالمگیری جلد ۳ ص ۱۲۱ میں محیط سے ہے:
|
لو وجہ الحکم القضاء علی احدھما یرید بہ ان الحکم قال لاحد الخصمین قامت عندی الحجۃ بما ادعی علیك من الحق ثم ان الذی توجہ علیہ الحکم عزلہ ثم حکم علیہ بعد ذٰلك لاینفذ حکمہ علیہ[3]۔ |
اگر حکم کسی ایك فریق پر فیصلہ متوجہ کرے،سے مراد یہ ہے کہ حکم ایك فریق کوکہے کہ دعوٰی کرنیوالے کی حجت میں تجھ پر قائم سمجھتا ہوں کہ حق ہے پھر یہ فریق اس کو معزول کردے اور اس کے باوجود حکم اس فریق کے خلاف فیصلہ دے دے تو وہ فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔(ت) |
یہاں کہ احمد شاہ نے قبل حکم ثالثان ثالثی سے اپنی ناراضی بذریعہ عرضی ظاہرکی ثالثی فورًا منسوخ ہوگئی اور ثالثوں کا فیصلہ ایسا ہی ہوگیا جیسے راہ چلتا کوئی اجنبی کچھ کہہ جائے اور اس کی نسبت یہ عذر کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع