30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقال تعالٰی" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوۡا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِؕ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ﴿۲۰۸﴾"[1]۔ وقال تعالٰی وَمَنۡ لَّمْ یَحْکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾ "[2]۔وقال تعالٰی "فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾"[3]۔ |
(اور اﷲ تعالی نے فرمایا:)اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے آجاؤ یعنی ہر بات میں احکام اسلام ہی کی پیروی کرو اور شیطانی راہ کے پیچھے نہ جاؤ بیشك وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا)جو شریعت مطہرہ کے مطابق حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں(اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا)وہی لوگ ظالم ہیں۔ |
اب کہ معاملہ ثالثی تك پہنچا اور اہل علم ثالث کئے گئے اور ان سے فتوٰی طلب ہوا تو خود ہی تمام بادی چھنٹ گئی اور صرف شرع مطہر پر بنائے کار رہی ولہذا اقرار نامہ میں فریقین نے لکھ دیا تھا کہ"کل مقدمہ سپرد ثالثان کرکے اعتراضات قانونی اوررواجی چھوڑدئے گئے ہیں"اب صرف اتنا دیکھنا رہا کہ فتوائے ثالثان صحیح و مطابق قواعد شرعیہ ہے یانہیں،اور اس جانچ میں صرف قواعد شریعت مطہرہ پر نظر لازم،قانونی یارواجی جھگڑوں کی طرف اصلًا التفات نہیں،نہ یہ کہ معاذاﷲ شرعی احکام کو تاویلات دور از کار کرکے قانون ورواج کی طرف ڈھالنا کہ یہ ان تمام آیات کریمہ کے صریح مخالف ہوگا،واﷲ الھادی۔
اب ہم بیان حکم شرعی کی طرف توجہ ہوتے ہیں وباﷲ التوفیق،کاغذات ملاحظہ ہوئے یہ فیصلہ کہ ثالثوں نے کیا اور اسی پر افسر مال نے مدار حکم رکھا شرعًا محض باطل ہے اس کا بطلان بہت وجہ سے ہے،ایك یہ کہ فیصلہ کرنے والے شرعًا ثالث ہی نہ تھے،نہ ان کو اصلًا فیصلہ کا اختیار تھا نہ ان کا فیصہ کسی راہ چلتے اجنبی کی بات سے زیادہ وقعت رکھتا ہے۔
دوم: اگر وہ ثالث فرض بھی کئے جائیں جب بھی انہیں خاص اس فیصلہ کا اختیار نہ تھا جو انہوں نے دیا۔
سوم: اس سے بھی قطع نظر ہو تو ان کا فیصلہ بوجہ باہمی اختلاف رائے کے نامعتبر ہے۔
چہارم: ان سب سے در گزر یے اور نفس فیصلہ کو دیکھئے جو تین ثالثوں نے کیا تو وہ خود ہی یکسر مخالف شرع واقع ہوا____اب ان سب وجوہ کو بتوفیق اﷲ تعالٰی بیان کرتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع