30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲۱)نقل عرضی منسوخی ثالثان مشمولہ مسل نمبری۱۶جناب عالی افسر صاحب مال نے من مدعا علیہ کو ثالث مقرر کرنے کو ارشاد فرمایا تھا لیکن سائل نے انکار کیا تھا اور اس میں رضامند نہیں تھا عدالت موصوف نے مجھ سے جبرًا اقرار نامہ ثالثی داخل کرالیا ہے جس میں سائل بالکل رضامند نہیں جیسا کہ پہلے سے رضامند نہیں تھا لہذا التماس ہے کہ تقرر ثالثی منسوخ فرمایا جائے اورجیسی کارروائی قبل از تقرر ثالثی تھی ویسی ہی جاری کی جائے ۲۱/جون۱۹۰۸ء فدوی احمد شاہ ولد سراج الدین بقلم خود۔
نقل حکم پریذیڈنٹ:مسل کا ملاحظہ کیا گیا درخواست تقرر ثالثان دستخطی شاکی ہے،ایك اعلٰی افسر کی نسبت بدظنی کی کوئی وجہ ہے اس لئے ناقابل التفات قرار دے کر مسل بمراد کارروائی ضابطہ واپس جائے۔دستخط پریذیڈنٹ صاحب۔
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(یااﷲ !حق اور درستی عطا فرما۔ت)قبل اس کے کہ ہم بتوفیق الٰہی یہاں حکم شرعی بیان کریں اتنی گزارش فریقین مقدمہ وحکام سب سے ضرور کہ معاملہ اہل اسلام کا ہے ریاست مسلمانوں کی ہے،ابتداءً ہی ہر فریق پر فرض تھا کہ حکم شرع پر گردن رکھتا،حکام پر فرض تھا کہ شرع مطہر کے موافق فیصلہ کرتے۔
|
قال اﷲ تعالٰی "فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۶۵﴾"[1] وقال تعالٰی " اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یَزْعُمُوۡنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوۡا بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبْلِکَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَحَاکَمُوۡۤا اِلَی الطّٰغُوۡتِ وَقَدْ اُمِرُوۡۤا اَنۡ یَّکْفُرُوۡا بِہٖ ؕ وَیُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّضِلَّہُمْ ضَلٰلًۢابـَعِیۡدًا ﴿۶۰﴾ "[2]۔ |
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا)اے نبی ! تیرے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تك اپنی باہمی نزاع میں تجھے حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تو حکم فرمائے اس سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور دل سے مان لیں۔ (اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:)کیا تونے انہیں نہ دیکھا جن کا دعوٰی ہے کہ وہ ایمان لائے قرآن مجید اور اگلی کتابوں پر،پھر یہ چاہتے ہیں کہ مخالفان خداو رسول کی بات پر فیصلہ رکھیں حالانکہ انہیں تو ان سے منکر ہونے کاحکم تھا اور شیطان چاہتا ہے انہیں دور کی گمراہی میں ڈال دے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع